لمس تشنہ لبی سے گزری ہے
لمس تشنہ لبی سے گزری ہےرات کس جاں کنی سے گزری ہے اس مرصع نگار خانے میںآنکھ بے منظری سے گزری ہے ایک سایہ سا پھڑپھڑاتا ہےکوئی شے روشنی سے گزری ہے لوٹنے والے ساتھ ساتھ رہےزندگی سادگی سے گزری ہے کچھ دکھائی نہیں دیا شایدعمر اندھی گلی سے گزری ہے شام آتی تھی دن […]
لمس تشنہ لبی سے گزری ہے Read More »