MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لمس تشنہ لبی سے گزری ہے

لمس تشنہ لبی سے گزری ہےرات کس جاں کنی سے گزری ہے اس مرصع نگار خانے میںآنکھ بے منظری سے گزری ہے ایک سایہ سا پھڑپھڑاتا ہےکوئی شے روشنی سے گزری ہے لوٹنے والے ساتھ ساتھ رہےزندگی سادگی سے گزری ہے کچھ دکھائی نہیں دیا شایدعمر اندھی گلی سے گزری ہے شام آتی تھی دن […]

لمس تشنہ لبی سے گزری ہے Read More »

مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے

مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھےمیری ہی بات مجھ سے کر میرا کہا سنا مجھے رخش ابد خرام کی تھمتی نہیں ہیں بجلیاںصبح ازل نژاد سے کرنا ہے مشورہ مجھے لوح جہاں سے پیشتر لکھا تھا کیا نصیب میںکیسی تھی میری زندگی کچھ تو چلے پتہ مجھے کیسے ہوں خواب آنکھ میں

مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے Read More »

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھتارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھ کتنا آسان سا تعلق تھاکتنا مشکل ہوا ہے عمر کے ساتھ پھر سفر نام ہے اذیت کاراستہ ہانپتا ہے عمر کے ساتھ کس کی آنکھوں کو نیند چبھتی ہےکون جاگا رہا ہے عمر کے ساتھ جانے آرام آئے گا کب تکدرد بڑھنے

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ Read More »

یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہے

یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہےوہ جس نے آنا نہیں انتظار اس کا ہے رکی ہوں زخم کے رقبے میں اپنی مرضی سےیہ جانتی ہوں کہ قرب و جوار اس کا ہے کسی خسارے کے سودے میں ہاتھ آیا تھاسو ایک قیمتی شے میں شمار اس کا ہے فقط فراق تو

یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہے Read More »

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائےغم کی توقیر ذرا اور بڑھا دی جائے کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنےجب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے عقل کا حکم کہ ساحل سے لگا دو کشتیدل کا اصرار کہ طوفاں سے لڑا دی جائے دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئیایسے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے Read More »

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھرمنتظر جانے کس کی رہی رات بھر ہم جلاتے رہے اپنے دل کے دیےتیرگی قتل ہوتی رہی رات بھر میری آنکھوں کو کر کے عطا رت جگےمیری تنہائی سوتی رہی رات بھر ایک خوشبو درازوں سے چھنتی ہوئیدستکیں جیسے دیتی رہی رات بھر دل کے اندر کوئی جیسے چلتا

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر Read More »

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھےکرم کرو کسی صحرا میں چھوڑ آؤ مجھے وہ جنس ہوں میں جسے بک کے مدتیں گزریںجو ہو سکے تو کہیں سے خرید لاؤ مجھے مچل رہی ہے نظر چھو کے دیکھیے اس کوسمٹ رہا ہے بدن ہاتھ مت لگاؤ مجھے کسی طرح ان اندھیروں کی عمر تو کم

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے Read More »

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوں

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوںزندگی آ تجھے جینے کا سلیقہ دے دوں بے چراغی یہ تری شام غریباں کب تکچل تجھے جلتے مکانوں کا اجالا دے دوں زندگی اب تو یہی شکل ہے سمجھوتے کیدور ہٹ جاؤں تری راہ سے رستا دے دوں تشنگی تجھ کو بجھانا مجھے منظور نہیںورنہ قطرہ

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوں Read More »

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھیگلوں کی شاخ سے لٹکے ہوئے تھے خنجر بھی یہاں وہاں کے اندھیروں کا کیا کریں ماتمکہ اس سے بڑھ کے اندھیرے ہیں دل کے اندر بھی ابھی سے ہاتھ مہکنے لگے ہیں کیوں میرےابھی تو دیکھا نہیں ہے بدن کو چھو کر بھی کسے تلاش کریں اب

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی Read More »

مستحق وہ لذت غم کا نہیں

مستحق وہ لذت غم کا نہیںجس نے خود اپنا لہو چکھا نہیں اس شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میںجس کی شاخوں پر کوئی پتا نہیں کون دیتا ہے در دل پر صداکہہ دو میں بھی اب یہاں رہتا نہیں بن رہے ہیں سطح دل پر دائرےتم نے تو پتھر کوئی پھینکا نہیں انگلیاں کانٹوں

مستحق وہ لذت غم کا نہیں Read More »