MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں دیار قاتلاں کا ایک تنہا اجنبی

میں دیار قاتلاں کا ایک تنہا اجنبیڈھونڈھنے نکلا ہوں خود اپنے ہی جیسا اجنبی آشناؤں سے سوال آشنائی کر کے دیکھپھر پتہ چل جائے گا ہے کون کتنا اجنبی ڈوبتے ملاح تنکوں سے مدد مانگا کیےکشتیاں ڈوبیں تو تھی ہر موج دریا اجنبی مل جو مجھ کو عافیت کی بھیک دینے آئے تھےکس سے پوچھوں […]

میں دیار قاتلاں کا ایک تنہا اجنبی Read More »

ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا

ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کاتیری رحمت ہے سبب میری سبک ساری کا دار نے اک سگ دنیا کو یہ بخشا ہے عروجہے فرشتوں میں بھی چرچا مری دیں داری کا دل و جاں سونپ چکے ہم تجھے اے جان جہاںاب ہمیں خوف ہی کیا اپنی گرفتاری کا جان بھی چیز ہے

ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا Read More »

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعدہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزوباقی ہے موت ہی دل بے مدعا کے بعد تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولےمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد اک شہر آرزو پہ بھی ہونا پڑا

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد Read More »

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعدہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزوباقی ہے موت ہی دل بے مدعا کے بعد تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولےمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد اک شہر آرزو پہ بھی ہونا پڑا

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد Read More »

گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے

گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہےعشق کا دم اسی پہ بھرتا ہے جان دیتا ہے عیش فانی پربس اسی زندگی پہ مرتا ہے راحت جاوداں کو بھول گیاکوئی دنیا میں یہ بھی کرتا ہے عشق بن کر جئے تو خاک جیےزندہ وہ ہے جو ان پہ مرتا ہے نام پر اس کے سب جو

گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے Read More »

ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست

ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوستراضی ہو بس اسی میں ہو جس میں رضائے دوست طغرائے امتیاز ہے خود ابتلائے دوستاس کے بڑے نصیب جسے آزمائے دوست یاں جنبش مژہ بھی گناہ عظیم ہےچپ چاپ دیکھتے رہو جو کچھ دکھائے دوست ملتی نہیں کسی کو سند امتحاں بغیردار و رسن کے حکم کو

ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست Read More »

خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی

خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہیاس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہی خوف غماز عدالت کا خطر دار کا ڈرہیں جہاں اتنے وہاں خوف خدا اور سہی عہد اول کو بھی اچھا ہے جو پورا کر دوتم وفادار ہو تھوڑی سی وفا اور سہی جس نے ہنگامہ عدالت کا تری دیکھا

خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی Read More »

کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا

کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیاکیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیا میرا شہرہ آج اک عالم میں گھر گھر ہو گیاتیرے ہاتھوں مجھ کو قاتل یہ میسر ہو گیا کیوں نہیں ملتا ابھی تک تشنہ لب ہیں بادہ خوارکیا ترا ساغر بھی ساقی جام کوثر ہو گیا اس

کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا Read More »

قید اور قید بھی تنہائی کی

قید اور قید بھی تنہائی کیشرم رہ جائے شکیبائی کی سوجھتا کیا ہمیں ان آنکھوں سےشرط تھی قلب کی بینائی کی در بت خانہ سے بڑھنے ہی نہ پائےگرچہ اک عمر جبیں سائی کی قیس کو ناقۂ لیلیٰ نہ ملاگو بہت بادیہ پیمائی کی ہم نے ہر ذرہ کو محمل پایاہے یہ قسمت ترے صحرائی

قید اور قید بھی تنہائی کی Read More »

تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے

تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیےکب در مے خانۂ کوثر کھلے طاقت پرواز ہی جب کھو چکیپھر ہوا کیا گر ہوا میں پر کھلے چاک کر سینہ کو پہلو چیر ڈالیوں ہی کچھ حال دل مضطر کھلے رات تلچھٹ تک نہ چھوڑی تب کہیںراز ہائے بادہ و ساغر کھلے لو وہ آ پہنچا جنوں کا

تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے Read More »