MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیرے پہلو میں جی رہی تھی کبھی

زندگی میری زندگی تھی کبھی بارشوں پر مری نہ جاؤ تم آگ اندر کہیں لگی تھی کبھی یاد کر کے میں ہنس رہی ہوں آج میں بھی تیرے لیے دکھی تھی کبھی وہ بھی دن تھے کہ میں یہی دنیا تیری آنکھوں سے دیکھتی تھی کبھی یاد ہوگا ابھی تلک تجھ کو میں بھی تیری […]

تیرے پہلو میں جی رہی تھی کبھی Read More »

تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھر

تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھرنہ ملا ہم سا گر حسیں تو پھر کون تیرا خیال رکھے گابعد میرے ہوا حزیں تو پھر جس پہ تجھ کو غرور ہے وہ دلکھو گیا گر یہیں کہیں تو پھر آ نہیں سکتا کوئی تجھ کو یادٹوٹ جائے ترا یقیں تو پھر دل کشادہ دلی پہ نازاں

تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھر Read More »

اس جبیں پر جو بل پڑے شاید

اس جبیں پر جو بل پڑے شایدیہ کلیجہ نکل پڑے شاید سانس رکنے لگی ہے سینے میںتم کہو تو یہ چل پڑے شاید ضبط سے لال ہو گئیں آنکھیںایک چشمہ ابل پڑے شاید ایک بجھتا دیا محبت کاتیرے ملنے سے جل پڑے شاید بات اب جو تمہیں بتانی ہےدل تمہارا اچھل پڑے شاید آنسوؤں سے

اس جبیں پر جو بل پڑے شاید Read More »

تم کو ہی لکھ رہا ہوں

تم کو ہی لکھ رہا ہوں—یہ خط میں تم کو ہی لکھ رہا ہوںمگر مجھے یہ یقین بھی ہےکہ اس نوشتے کو تاقیامتتمہاری آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی—یہ خط عجیب اور منفرد هےجو قاصدوں اور ڈاکخانوں سے تا ابد اجنبی رہے گا—میں اس کو لکھ کرطویل جاڑوں کی یخ گزیدہ اداس راتوں میں خود پڑهوں

تم کو ہی لکھ رہا ہوں Read More »

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیاہمیں یوسف کا سفر یاد آیا میں نے تلوار پہ سر رکھا تھایعنی تلوار سے سر یاد آیا وہ تری کم سخنی تھی کہ مجھےبات کرنے کا ہنر یاد آیا اے زمانے مرے پہلو میں ٹھہرپھر سلامِ پسِ در یاد آیا کسے اڑتے ہوئے دیکھا کہ تمہیںاپنا ٹوٹا ہوا

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا Read More »

کون جیت سکتا ہے عزمِ چرخ پیما سے

کون جیت سکتا ہے عزمِ چرخ پیما سےسانپ ہار جاتے ہیں چوبِ خشکِ صحرا سے لے کے ہاتھ میں پانی پھینکنا بتاتا ہےتشنگی نچوڑی ہے اس نے موجِ دریا سے چاکِ پیرہن تسلیم، ہم پہ یہ کرم کیساہم کہاں کے یوسف ہیں، پوچھنا زلیخا سے ہم سے خوش نگاہی کی بھیک لینے آئے ہیںدستِ گل

کون جیت سکتا ہے عزمِ چرخ پیما سے Read More »

وہ بوڑھا بھی کتنا دلکش بوڑھا تھا

وہ بوڑھا بھی کتنا دلکش بوڑھا تھایادوں کی دہلیز پہ چپکا بیٹھا تھا شور مچاتے آنسو ٹپ ٹپ گرتے تھےہونٹوں پر اک کہر زدہ سناٹا تھا ایک طرف پھن کاڑھے بیٹھی تھیں راتیںایک طرف پرشور دنوں کا میلا تھا ٹوٹے پھوٹے چند کھلونوں کے ہمراہاک گوشے میں اس کا بچپن رکھا تھا ہر شوخی پر

وہ بوڑھا بھی کتنا دلکش بوڑھا تھا Read More »

دھوپ جب تک سر پہ تھی زیر قدم پائے گئے

ڈوبتے سورج میں کتنی دور تک سائے گئے آج بھی حرف تسلی ہے شکست دل پہ طنز کتنے جملے ہیں جو ہر موقع پہ دہرائے گئے اس زمین سخت کا اب کھودنا بے کار ہے دفن تھے جو اس خرابے میں وہ سرمائے گئے دشمنوں کی تنگ ظرفی ناپنے کے واسطے ہم شکستوں پر شکستیں

دھوپ جب تک سر پہ تھی زیر قدم پائے گئے Read More »

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کا

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کاکنڈلی مار کے بیٹھا سانپ خزانے کا ہم بھی زخم طلب تھے اپنی فطرت میںوہ بھی کچھ سچا تھا اپنے نشانے کا راہب اپنی ذات میں شہر آباد کریںدیر کے باہر پہرہ ہے ویرانے کا بات کہی اور کہہ کر خود ہی کاٹ بھی دییہ بھی اک پیرایہ تھا

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کا Read More »

جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیا

جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیامری نگاہ کو میرے ہی سر نے چھین لیا ہے کس کے دست کرم میں مہار ناقۂ جاںسفر کا لطف غم ہم سفر نے چھین لیا میں اپنی روح کے ذرے سمیٹتا کیوں کریہ خاک وہ تھی جسے کوزہ گر نے چھین لیا بھٹک رہے ہیں جوانی

جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیا Read More »