MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے

تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہےپر غیب سے سامان بقا میرے لیے ہے پیغام ملا تھا جو حسین ابن علی کوخوش ہوں وہی پیغام قضا میرے لیے ہے یہ حور بہشتی کی طرف سے ہے بلاوالبیک کہ مقتل کا صلا میرے لیے ہے کیوں جان نہ دوں غم میں ترے جب کہ […]

تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے Read More »

اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا

اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کاگاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کا لوٹتے ہیں جس کو سن سن کر ہزاروں مرغ دلہو رہا ہے ذکر کس کے گیسوؤں کے دام کا چشم مست یار کا ہم چشم لو پیدا ہوادیکھنا اب پوست کھینچا جائے گا بادام کا سیر کرتا

اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا Read More »

ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاش

ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاشجس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاش ہوں رند سر کھلا بھی جو ہووے تو ڈر نہیںزاہد نہیں کہ مجھ کو ہو دستار کی تلاش میں ہوں کہیں پہ آٹھوں پہر ہے اسی کی فکرجاتی نہیں ہے دل سے مرے یار کی تلاش دل ہاتھوں

ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاش Read More »

جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا

جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکاپھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکا نیزہ بازی پہ ہمیں اپنی نہ دھمکا اے ترکہم سمجھتے ہیں اسے اپنی نظر میں تنکا آتش نالۂ بلبل یہ چمن میں بھڑکینہ بچا نام کو صیاد کے گھر میں تنکا خار مژگاں کو نظر بھر کے نہ دیکھا

جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا Read More »

کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا

کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلاگماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلا رخ اس کا دیکھ ہوا زرد نیر اعظمسنہرے برج سے جس دم وہ مہ لقا نکلا وہ سن کے پاک محبت کا نام کہتے ہیںہماری جان کو لو یہ بھی پارسا نکلا ہمارے پاؤں پڑے آ کے آبلے ہر گامکبھی جو

کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا Read More »

کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے

کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہےطائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہے زلف مشکیں کا جو اس شوخ کے دھیان آتا ہےزخم سے سینۂ مجروح کا چر جاتا ہے ہجر میں موت بھی آئی نہ مجھے سچ ہے مثلوقت پر کون کسی کے کوئی کام آتا ہے اب تو اللہ ہے یاران وطن

کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے Read More »

نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک

نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تکمکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تک بنا ہر موئے تن خار مغیلاںستایا جوش وحشت نے یہاں تک ہماری جان کے پیچھے پڑا ہےدل ناداں کو سمجھائیں کہاں تک رواں شب کو ہوا کیا ناقۂ روحنظر آئی نہ گرد کارواں تک زمیں پہ زلزلہ آیا تو پہنچامرے نالوں

نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک Read More »

ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے

ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہےہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہے شاید ہمارے قول پہ حبل الورید ہےہم سے خدا قریب ہے کعبہ بعید ہے گزرا مہ صیام نہ کیوں پنجۂ شرابخالی کا چاند یہ نہیں ہے ماہ عید ہے شغل اپنا بادہ خواری ہے اور تاک سلسلہپیر مغاں

ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے Read More »

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلامئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو ٹھہرو تیوری کو چڑھائے ہوئے جاتے ہو کدھردل کا صدقہ تو ابھی سر سے اتر جانے دو منع کیوں کرتے ہو عشق بت

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو Read More »

ضلع سیالکوٹ کا سب سے بڑا شاعر؟

عطاء الحق قاسمی​ اقبال دوست حلقوں کے اطمینان کے لئے میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اور میرے چند دوسرے دوست اقبال صاحب سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں رکھتے بلکہ ان سے ہمارا اختلاف نہ صرف یہ کہ نظریاتی نوعیت کا ہے بلکہ دوسروں کا تو پتہ نہیں جہاں تک میرا معاملہ ہے

ضلع سیالکوٹ کا سب سے بڑا شاعر؟ Read More »