MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دیجے نہ داد شوخ بیانی کو دیکھ کر

غزل دیجے نہ داد شوخ بیانی کو دیکھ کر تعریف کیجے مصرعِ ثانی کو دیکھ کر نعمت ملی تھی سہنے کی طاقت سے ماورا صحرا نشین مر گئے پانی کو دیکھ کر ماتھے پہ ثبت بوسہ نمودار ہوگیا رسنے لگے ہیں زخم ، نشانی کو دیکھ کر پہلے بھی اشک بار تھیں آنکھیں مری مگر […]

دیجے نہ داد شوخ بیانی کو دیکھ کر Read More »

گر مجھے اِس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست

نظم   گر مجھے اِس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست گر مجھے اِس کا یقین ہو کہ ترے دل کی تھکن تیری آنکھوں کی اداسی ترے سینے کی جلن میری دلجوئی مرے پیار سے مٹ جائے گی گر مرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے جی اُٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے

گر مجھے اِس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست Read More »

اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے

غزل اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے ہم نے سوچ رکھا ہے، رات یوں گزاریں گے دھڑکنیں بچھادیں گے، شوخ تیرے قدموں پہ ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اُتاریں گے تُو کہ آج قاتل ہے ، پھر بھی راحتِ دل ہے زہر کی ندی ہے تُو، پھر بھی قیمتی ہے تُو

اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے Read More »

گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے

غزل گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے زباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیے تبسم میں جو اس کا منہ کھلا دل بندھ گیا ووہیں مرا دل لے گیا ہنستے ہی ہنستے یار کیا کہیے اگر اس کی جگہ پہلو میں ہوتا خار بہتر تھا بہت دیتا ہے میرا

گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے Read More »

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں

غزل مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازل ہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں عیش و راحت کے تلاشی ہیں یہ سارے بے درد ایک ہم کو ہے یہی فکر کہ آزار کہاں عشق اگر کیجئے

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں Read More »

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے

غزل اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے نرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہے اس اشک و آہ میں سودا بگڑ نہ جائے کہیں یہ دل کچھ آب رسیدہ ہے کچھ جلا بھی ہے یہ آرزو ہے کہ اس بے وفا سے یہ پوچھوں کہ میرے بے مزا رکھنے میں

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے Read More »

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا

غزل نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا ہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے خدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا مجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے نہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا Read More »

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ

غزل کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ ہم کو خدمت کا انہوں کو کام فرمانے کا حظ وصل میں بھی درد مندوں کو نہیں راحت نصیب دیکھ لیجے شمع کے ملنے سے پروانے کا حظ اس طرف گل ٹوٹتا ہے اس طرف بلبل کا دل کیا رہا گلچیں کے ہاتھوں باغ

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ Read More »

اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا

غزل اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا جس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھا دام و قفس سے چھوٹ کے پہنچے جو باغ تک دیکھا تو اس زمیں میں چمن کا نشاں نہ تھا یہ قمریاں جو سرو کی عاشق ہوئیں مگر دنیا میں اور کوئی سجیلا جواں نہ

اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا Read More »

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ

غزل خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ جمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنک کب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ غنچہ رنگینی کو اپنی چاہئے تہ کر رکھے اس کو کیا نسبت ہے ان لب ہائے

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ Read More »