MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج

غزل کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج کام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبح کیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج حق کو کب پہنچے نہ باندھے جب تک ان زلفوں سے دل کیوں کہ ہو زنجیر […]

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج Read More »

دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی

غزل دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی باغباں اب کے اجاڑے تو گلستاں تو سہی ابر میں دیتا نہیں تو مجھ کو اے ساقی شراب میں کروں شیشہ کو تیرے سنگ باراں تو سہی اب تو ناصح کے تئیں سینے دو میرا چاک جیب تار تار اس ضد سے کر

دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی Read More »

دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع

غزل دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع فصل گل نزدیک آئی اے گریباں الوداع میکدہ سے قصد مکہ کا کیا ہے کیا کریں توبہ ہم سے ہو گئی اے مے پرستاں الوداع نئیں ہمیں فرصت کہ اب کے سال باندھیں آشیاں باغباں کا حکم یوں ہے اے گلستاں الوداع ہم سے تھا ویرانہ ٹک

دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع Read More »

اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے

غزل اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے تو کرنے دو اسے فریاد جتنا اس کا جی چاہے ملی ہیں یار کی گلیاں ہمیں مجنوں سے یہ کہیو کرے ویرانے کو آباد جتنا اس کا جی چاہے نہیں ممکن کہ ہم کعبہ کو جائیں چھوڑ بت خانہ کرے واعظ ہمیں ارشاد

اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے Read More »

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں

غزل وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں اس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیں کوئی شتاب خبر لو کہ بے نمک ہے بہار چمن کے بیچ دوانوں کا اب کے شور نہیں تجلیوں سے پہنچتا ہے کب اسے آسیب صنم کدہ ہے نہ آخر یہ کوہ طور نہیں ترے سفر

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں Read More »

سیاہ خانۂ امید رائیگاں سے نکل

غزل سیاہ خانۂ امید رائیگاں سے نکل کھلی فضا میں ذرا آ غبار جاں سے نکل عجیب بھیڑ یہاں جمع ہے یہاں سے نکل کہیں بھی چل مگر اس شہر بے اماں سے نکل اک اور راہ ادھر دیکھ جا رہی ہے وہیں یہ لوگ آتے رہیں گے تو درمیاں سے نکل ذرا بڑھا تو

سیاہ خانۂ امید رائیگاں سے نکل Read More »

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا

غزل کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا ندی کے دونوں طرف ساری کشتیاں گم تھیں بہت ہی تیز تھا اب کے نشہ روانی کا میں کیوں نہ ڈوبتے منظر کے ساتھ ڈوب ہی جاؤں یہ شام اور سمندر اداس پانی کا پرندے پہلی اڑانوں کے بعد

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا Read More »

ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی

غزل ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی ذہن میں کچھ لکیریں تھیں خاکہ نہ تھا کچھ نشاں تھے نظر میں علامت نہ تھی زرد پتے کہ آگاہ تقدیر تھے ایک زائل تعلق کی تصویر تھے شاخ سے سب کو ہونا تھا آخر جدا ایسی اندھی ہوا کی ضرورت

ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی Read More »

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ

غزل یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ سر شام سینے میں ہانپتا ہے سراب سا کچھ وہ چمک تھی کیا جو پگھل گئی ہے نواح جاں میں کہ یہ آنکھ میں کیا ہے شعلۂ زیر آب سا کچھ کبھی مہرباں آنکھ سے پرکھ اس کو کیا ہے یہ شے ہمیں

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ Read More »

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

غزل نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں کہ ہم پرندے مقامات گم شدہ کے ہیں ستم یہ دیکھ کہ خود معتبر نہیں وہ نگاہ کہ جس نگاہ میں ہم مستحق سزا کے ہیں قدم قدم پہ کہے ہے یہ جی کہ لوٹ چلو تمام مرحلے دشوار انتہا کے ہیں فصیل شب

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں Read More »