کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج
غزل کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج کام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبح کیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج حق کو کب پہنچے نہ باندھے جب تک ان زلفوں سے دل کیوں کہ ہو زنجیر […]
کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج Read More »