MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کمال یہ نہیں کہ زندگی خراب ہوئی

غزل کمال یہ نہیں کہ زندگی خراب ہوئی کمال یہ ہے محبت سے بازیاب ہوئی وہ جس کہ چہرے پہ ٹھہری تھی گہری خاموشی جو اشک آنکھ سے ٹپکا تو بے حجاب ہوئی نجات مل نہیں پائی کبھی تھكن سے مجھے سو رات نیند بھی تكيے تلے عذاب ہوئی وہ شاہزادہ محبت سے بازیاب ہوا […]

کمال یہ نہیں کہ زندگی خراب ہوئی Read More »

کہاں قسمت میں بزم آرائیاں تھیں

غزل کہاں قسمت میں بزم آرائیاں تھیں جہاں ہم تھے وہاں تنہائیاں تھیں مرے مرنے پہ تم کو یاد آیا مرے اندر بہت اچھائیاں تھیں بچھڑتے وقت میں نے ماں کو دیکھا وہ بوڑھی تو نہیں تھی جھائیاں تھیں دلِ برباد تھا وہ شے کہ جس کے مقدّر میں فقط رسوائیاں تھیں نظر انداز ہی

کہاں قسمت میں بزم آرائیاں تھیں Read More »

میری چشمِ نم میں رواں دواں مری زندگی کا عذاب تھا

غزل میری چشمِ نم میں رواں دواں مری زندگی کا عذاب تھا جسے دیکھتے ہی میں مر گئی وہی عکس مَحْوِ سراب تھا مری عمرِ رفتہ کی خیر ہو کہ ترے بغیر گزر گئی جہاں سانس لینا مُحال تھا جہاں رنج خانہ خراب تھا وہی سرخ لب , وہی آئنہ , وہی دشت دشت سی

میری چشمِ نم میں رواں دواں مری زندگی کا عذاب تھا Read More »

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا

غزل اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا آتا ہے یاد ہم کو دل بے ثمر ہمارا کوئی نہیں جو پوچھے رخ ہے کدھر ہمارا آخر کسے بتائیں کیا ہے سفر ہمارا ہم بھی سفر کے ہاتھوں دو لخت ہوگئے ہیں راہوں کو سونپ آئے ہم ہمسفر ہمارا وحشت کے اس مکاں میں

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا Read More »

خواب ہے خواب ہی ہو ، چہرۂ تصویر نہ ہو

غزل خواب ہے خواب ہی ہو ، چہرۂ تصویر نہ ہو داستاں گو مرے اِس زخم کی تشہیر نہ ہو یوں نہ ہو جائے کہ تمثیلِ قبا ہو جاؤں اس تکلف سے مرے ساتھ بغل گیر نہ ہو یوں نکالا ہے مجھے دل کے صنم خانے سے جیسے صحرا میں بھٹکتا ہوا رہگیر نہ ہو

خواب ہے خواب ہی ہو ، چہرۂ تصویر نہ ہو Read More »

صحرا تھا ہم سے دور ، سمندر بھی دور تھا

غزل ہم چل پڑے تھے ، جسم "شکستوں سے چور تھا” صحرا تھا ہم سے دور ، سمندر بھی دور تھا یک لخت دل کو تھام کے بیٹھا ہے آسمان قطعہ زمیں کا آج جو بھڑکا وہ طور تھا پاؤں انا کی بیڑیوں نے باندھے تھے مگر ملنے کے واسطے مجھے آنا ضرور تھا مجھ

صحرا تھا ہم سے دور ، سمندر بھی دور تھا Read More »

بس کار ِ محبت میں لپٹنا نہیں آتا

غزل بس کار ِ محبت میں لپٹنا نہیں آتا ورنہ ترے دیوانے کو کیا کیا نہیں آتا موسیٰ نہیں جو طور سے لوٹے گا اسی پل مجنون ہے وہ دشت سے دکھتا ، نہیں آتا جاتے ہیں بہتر شہِ مرداں کے جیالے کربل کا یہاں منہ کو کلیجہ نہیں آتا ؟ خوابوں کو نظر بند

بس کار ِ محبت میں لپٹنا نہیں آتا Read More »

رابطہ تو بحال رکھا ہے

غزل رابطہ تو بحال رکھا ہے پر مجھے کل پہ ٹال رکھا ہے ایک غم نے نڈھال رکھا ہے پھر بھی خود کو سنبھال رکھا ہے اس سے آتی ہے آپ کی خوشبو ہم نے کُرتا سنبھال رکھا ہے دل امانت ہے تیرے قدموں کی جانے والے ! سنبھال رکھا ہے چار خانے ہیں میرے

رابطہ تو بحال رکھا ہے Read More »

صرف ہم دونوں کو لاحق ہے یہ دوری رات میں

غزل صرف ہم دونوں کو لاحق ہے یہ دوری رات میں چاند ہے پورا وگرنہ اس ادھوری رات میں ایسا لگتا تھا کہ تارے جھیل میں موجود ہیں جب حلیمہ پانی بھرتی تھی ظہوری رات میں صبح دم اپنے گھروں کو چل دیے بوڑھے دیے رہ گئیں باتیں جو کرنی تھیں ضروری رات میں سارا

صرف ہم دونوں کو لاحق ہے یہ دوری رات میں Read More »

زندگی کا ہاتھ بھی اک دن جھٹک جائیں گے ہم

غزل زندگی کا ہاتھ بھی اک دن جھٹک جائیں گے ہم کیا خبر کس وقت پنکھے سے لٹک جائیں گے ہم ہم خزاں رت کی شبِ فرقت کے مارے لوگ ہیں مسکراتے پھول ہیں لیکن چٹک جائیں گے ہم باتوں باتوں میں چلے گا ذکر تیرا دفعتاً اور تیرے نام پر یک دم اٹک جائیں

زندگی کا ہاتھ بھی اک دن جھٹک جائیں گے ہم Read More »