MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بھٹک رہی ہے عطاؔ خلق بے اماں پھر سے

بھٹک رہی ہے عطاؔ خلق بے اماں پھر سےسروں سے کھینچ لئے کس نے سائباں پھر سے دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کازمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے میں تیری یاد سے نکلا تو اپنی یاد آئیابھر رہے ہیں مٹے شہر کے نشاں پھر سے تری زباں پہ وہی حرف انجمن […]

بھٹک رہی ہے عطاؔ خلق بے اماں پھر سے Read More »

منزلیں بھی یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا

منزلیں بھی یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھناتم سفر بھی دیکھنا رخت سفر بھی دیکھنا حال دل تو کھل چکا اس شہر میں ہر شخص پرہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی دیکھنا راستہ دیں یہ سلگتی بستیاں تو ایک دنقریۂ جاں میں اترنا یہ نگر بھی دیکھنا چند لمحوں کی شناسائی

منزلیں بھی یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا Read More »

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئےیہ زندگی تو مجھ سے بسر ہونی چاہئے آئے ہیں لوگ رات کی دہلیز پھاند کران کے لئے نوید سحر ہونی چاہئے اس درجہ پارسائی سے گھٹنے لگا ہے دممیں ہوں بشر خطائے بشر ہونی چاہئے وہ جانتا نہیں تو بتانا فضول ہےاس کو مرے غموں کی خبر

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے Read More »

وہ دشت کرب و بلا میں اترنے دیتا نہیں

وہ دشت کرب و بلا میں اترنے دیتا نہیںہوائے تیز میں مجھ کو بکھرنے دیتا نہیں زمیں کو چومنا چاہوں کہ وہ زمیں پہ ہےوہ آسمان سے مجھ کو اترنے دیتا نہیں جھپکنے دیتا نہیں آنکھ وہ شب خلوتمرے لہو کو وہ آرام کرنے دیتا نہیں یہ کس عذاب میں اس نے پھنسا دیا مجھ

وہ دشت کرب و بلا میں اترنے دیتا نہیں Read More »

وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے

وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہےوہی دعا بھی وہی حاصل دعا بھی ہے میں اس کی کھوج میں نکلا ہوں ساتھ لے کے اسےوہ حسن مجھ پہ عیاں بھی ہے اور چھپا بھی ہے میں در بدر تھا مگر بھول بھول جاتا تھاکہ اک چراغ دریچے میں جاگتا بھی ہے کھلا ہے

وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے Read More »

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوںپھر بھی غبار جیسا کوئی پل تو میں بھی ہوں خواہش کی وحشتوں کا یہ جنگل ہے پر خطرمجھ سے بھی احتیاط کہ جنگل تو میں بھی ہوں لگتا نہیں کہ اس سے مراسم بحال ہوںمیں کیا کروں کہ تھوڑا سا پاگل تو میں بھی

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں Read More »

وہ سکون جسم و جاں گرداب جاں ہونے کو ہے

وہ سکون جسم و جاں گرداب جاں ہونے کو ہےپانیوں کا پھول پانی میں رواں ہونے کو ہے ماہی بے آب ہیں آنکھوں کی بے کل پتلیاںان نگاہوں سے کوئی منظر نہاں ہونے کو ہے گم ہوا جاتا ہے کوئی منزلوں کی گرد میںزندگی بھر کی مسافت رائیگاں ہونے کو ہے میں فصیل جسم کے

وہ سکون جسم و جاں گرداب جاں ہونے کو ہے Read More »

روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف

روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلفپیارا ہے دل تو ناز بھی دل کے اٹھائے زلف در گزرے دل کی یاد سے ہم جان تو بچیپیچھے پڑی ہے جان کے اب کیوں بلائے زلف وہ کیوں بتائے ہم کو دل گم شدہ کا حالپوچھیں جناب خضر تو رستہ بتائے زلف بکھرائے بال دیکھ لیا

روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف Read More »

ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں

ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوںحسینوں کی بھری محفل ہو ہم ہوں کہا لیلیٰ سے کس نے دل ہو تو ہوکبھی تو ہو ترا محمل ہو ہم ہوں مزا دے جائے ہم کو خواب غفلتمزا آ آئے تم غافل ہو ہم ہوں ذرا ہم بھی سنیں تم نے کہا کیاعدو سے جب سر

ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں Read More »

تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپ

تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپاے شیخ یہاں کون ہے میں چور ہوں یا آپ دیوانوں کے سر ہو گئی کیا زلف دوتا آپوہ جا کے گلے اپنے لگا لائے بلا آپ ہنس ہنس کے مجھے آپ عبث کوس رہے ہیںرو رو کے مرے واسطے مانگیں گے دعا آپ اڑتے بھی

تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپ Read More »