بھٹک رہی ہے عطاؔ خلق بے اماں پھر سے
بھٹک رہی ہے عطاؔ خلق بے اماں پھر سےسروں سے کھینچ لئے کس نے سائباں پھر سے دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کازمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے میں تیری یاد سے نکلا تو اپنی یاد آئیابھر رہے ہیں مٹے شہر کے نشاں پھر سے تری زباں پہ وہی حرف انجمن […]
بھٹک رہی ہے عطاؔ خلق بے اماں پھر سے Read More »