MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں

غزل دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں سب سے آگے ہوں میں کچھ اپنی خبر دینے میں پھینک دیتا ہے ادھر پھول وہ گاہے گاہے جانے کیا دیر ہے دامن مرا بھر دینے میں سیکڑوں گم شدہ دنیائیں دکھا دیں اس نے آ گیا لطف اسے لقمۂ تر دینے میں شاعری کیا ہے […]

دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں Read More »

خاک و خوں کی وسعتوں سے با خبر کرتی ہوئی

غزل خاک و خوں کی وسعتوں سے با خبر کرتی ہوئی اک نظر امکاں ہزار امکاں سفر کرتی ہوئی اک عجب بے چین منظر آنکھ میں ڈھلتا ہوا اک خلش سفاک سی سینے میں گھر کرتی ہوئی اک کتاب صد ہنر تشریح زائل کا شکار ایک مہمل بات جادو کا اثر کرتی ہوئی جسم اور

خاک و خوں کی وسعتوں سے با خبر کرتی ہوئی Read More »

عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے

غزل عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے یہ اور کون مرے ساتھ امتحاں میں ہے یہ رات گزرے تو دیکھوں طرف طرف کیا ہے ابھی تو میرے لئے سب کچھ آسماں میں ہے کٹے گا سر بھی اسی کا کہ یہ عجب کردار کبھی الگ بھی ہے شامل بھی داستاں میں ہے تمام شہر

عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے Read More »

میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا

غزل میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا اک اور حادثہ مجھ پر گزرنے والا تھا کہیں سے آ گیا اک ابر درمیاں ورنہ مرے بدن میں یہ سورج اترنے والا تھا مجھے سنبھال لیا تیری ایک آہٹ نے سکوت شب کی طرح میں بکھرنے والا تھا عجیب لمحۂ کمزور سے میں گزرا

میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا Read More »

مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

غزل مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے اک اور ذات میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہے مری صدا نہ سہی ہاں مرا لہو نہ سہی یہ موج موج اچھلتا ہوا سا کچھ تو ہے کہیں نہ آخری جھونکا ہو مٹتے رشتوں کا یہ درمیاں سے نکلتا ہوا سا کچھ تو ہے

مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے Read More »

آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا

غزل آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا آنکھ کھلتی جائے گی منظر بدلتا جائے گا پھیلتی جائے گی چاروں سمت اک خوش رونقی ایک موسم میرے اندر سے نکلتا جائے گا میری راہوں میں حسیں کرنیں بکھرتی جائیں گی آخری تارا پس کہسار ڈھلتا جائے گا بھولتا جاؤں گا گزری ساعتوں کے حادثے قہر

آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا Read More »

دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا

غزل دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا ذرا سے لمس نے روشن کیا بدن اس کا وہ خاک اڑانے پہ آئے تو سارے دشت اس کے چلے گداز قدم تو چمن چمن اس کا وہ جھوٹ سچ سے پرے رات کچھ سناتا تھا دلوں میں راست اترتا گیا سخن اس کا عجیب

دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا Read More »

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے

غزل سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے اے ستارو اس خلا میں اک سفر میرا بھی ہے چار جانب کھینچ دیں اس نے لکیریں آگ کی میں کہ چلایا بہت بستی میں گھر میرا بھی ہے جانے کس کا کیا چھپا ہے اس دھوئیں کی صف کے پار ایک لمحے کا افق امید

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے Read More »

سر سبز موسموں کا نشہ بھی مرے لئے

غزل سر سبز موسموں کا نشہ بھی مرے لئے تلوار کی طرح ہے ہوا بھی مرے لئے میرے لئے ہیں منظر و معنی ہزار رنگ لفظوں کے درمیاں ہے خلا بھی مرے لئے شامل ہوں قافلے میں مگر سر میں دھند ہے شاید ہے کوئی راہ جدا بھی مرے لئے میں خوش ہوا کہ مژدہ

سر سبز موسموں کا نشہ بھی مرے لئے Read More »

قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا

غزل قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا ہوا بندھی تھی یہاں پیٹھ پر سنبھلتے کیا پھر اس کے ہاتھوں ہمیں اپنا قتل بھی تھا قبول کہ آ چکے تھے قریب اتنے بچ نکلتے کیا یہی سمجھ کے وہاں سے میں ہو لیا رخصت وہ چلتے ساتھ مگر دور تک تو چلتے کیا

قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا Read More »