دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں
غزل دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں سب سے آگے ہوں میں کچھ اپنی خبر دینے میں پھینک دیتا ہے ادھر پھول وہ گاہے گاہے جانے کیا دیر ہے دامن مرا بھر دینے میں سیکڑوں گم شدہ دنیائیں دکھا دیں اس نے آ گیا لطف اسے لقمۂ تر دینے میں شاعری کیا ہے […]
دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں Read More »