MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میکدے سے در جاناں کی طرف آئے ہیں

غزل میکدے سے در جاناں کی طرف آئے ہیں آج ہم کفر سے ایماں کی طرف آئے ہیں لوگ جاتے ہیں بہاروں میں گلستاں کی طرف ہم گلستاں سے بیاباں کی طرف آئے ہیں دیدہ و دل کو ہے قربت ترے غم سے لیکن اشک بہہ کر مرے داماں کی طرف آئے ہیں جب بھی […]

میکدے سے در جاناں کی طرف آئے ہیں Read More »

میں اور ہوں مرا دلِ دیوانہ اور ہے

غزل میں اور ہوں مرا دلِ دیوانہ اور ہے افسانہ اور حاصلِ افسانہ اور ہے دیوانگی پہ اب مری ہنستا نہیں کوئی سب جانتے ہیں فطرتِ دیوانہ اور ہے اس شمع رو کی بزم کے آداب دیکھیے اک جل چکا تو دوسرا پروانہ اور ہے دل بھر گیا ہے اب مرا دشت حیات سے شاید

میں اور ہوں مرا دلِ دیوانہ اور ہے Read More »

دل میں پنہاں غم محبت ہے

غزل دل میں پنہاں غم محبت ہے میرے پہلو میں میری جنت ہے ترک الفت کے باد سمجھا میں اس کی دوری میں کتنی قربت ہے اپنی منزل پہ یوں کھڑا ہوں میں جیسے کوئی مقام حیرت ہے زندگی کی دعا نہ دو مجھ کو زندگی موت کی علامت ہے دیکھیں کب دار تک رسائی

دل میں پنہاں غم محبت ہے Read More »

بوئے خوں خنجر میں رہنے دیجئے

غزل بوئے خوں خنجر میں رہنے دیجئے بات گھر کی گھر میں رہنے دیجئے ظلمت شب کو نہ کہئے روشنی فرق خیر و شر میں رہنے دیجئے اپنی یادیں ساتھ لے جائیں نہ آپ روشنی کچھ گھر میں رہنے دیجئے ورنہ تنہائی مجھے کھا جائے گی کوئی سودا سر میں رہنے دیجئے آپ میری بات

بوئے خوں خنجر میں رہنے دیجئے Read More »

قافلے یادوں کے یوں دل میں مرے در آئے

غزل قافلے یادوں کے یوں دل میں مرے در آئے جیسے پردیس سے برسوں میں کوئی گھر آئے وصل کی راہ میں ہے ہجر کا صحرائے عظیم کیسے ملنے کبھی دریا سے سمندر آئے آتش صحن چمن صرف چمن تک نہ رہی چند شعلے مرے دامن پہ بھی اڑ کر آئے قرض احباب کا اس

قافلے یادوں کے یوں دل میں مرے در آئے Read More »

تیرا ہر رنگ ستم اے شعلہ رو اچھا لگا

غزل تیرا ہر رنگ ستم اے شعلہ رو اچھا لگا جتنے تو نے غم دئے اتنا ہی تو اچھا لگا صرف اتنا ہی نہیں وہ ماہرو اچھا لگا اس کا لہجہ اس کا طرز گفتگو اچھا لگا میری جانب اس نے دیکھا اس نگاہ خاص سے مجھ کو اپنے روبرو خالی سبو اچھا لگا برہمی

تیرا ہر رنگ ستم اے شعلہ رو اچھا لگا Read More »

وہ بوئے گل ہے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں

غزل وہ بوئے گل ہے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں میں سر جھکاؤں کہاں کوئی سنگ در ہی نہیں نظر بچا کے ترے غم سے میں گزر جاؤں مری نگاہ میں ایسی تو رہ گزر ہی نہیں قفس نصیبوں پہ گزری ہے کیا خدا جانے سنا ہے جسم پہ اب ان کے بال و

وہ بوئے گل ہے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں Read More »

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے

غزل سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے یہ وہ مرہم ہے جو زخموں کو شفا بخشے ہے زلف اپنی رخ روشن پہ سجی رہنے دو میرے آئینۂ دل کو یہ جلا بخشے ہے بزم ہستی میں جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور کون جیتا ہے سدا کس کو قضا بخشے ہے اس

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے Read More »

پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں

غزل پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں ان کو پانا کوئی مشکل نہیں مر تو جائیں یہ فضائے سحر و شام نکھر جائے گی ان کی زلفیں مرے ہاتھوں سے سنور تو جائیں چھیڑتے رہتے ہیں حالات کے نشتر ہر وقت ورنہ زخموں کے دہن آپ ہی بھر تو جائیں نام

پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں Read More »

اس شہر کے لوگوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے

غزل اس شہر کے لوگوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے دروازہ کسی گھر کا کھلا ہے کہ نہیں ہے لوٹ آئی ہیں چلمن ہی سے ٹکرا کے نگاہیں وہ جان حیا اپنی جگہ ہے کہ نہیں ہے موجیں مجھے ساحل کی طرف لا تو رہی ہیں معلوم نہیں اس کی رضا ہے کہ نہیں

اس شہر کے لوگوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے Read More »