MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئےآبگینے تھے کہ پتھر ہو گئے بے گناہی ظلمتوں میں قید تھیداغ پھر کس کے سمندر دھو گئے عمر بھر کاٹیں گے فصلیں خون کیزخم دل میں بیج ایسا بو گئے دیکھ کر انسان کی بیچارگیشام سے پہلے پرندے سو گئے ان گنت یادیں میرے ہم راہ تھیںہم ہی زریںؔ […]

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے Read More »

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہےایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہے دور تک ساحل پہ دل کے آبلوں کا عکس تھاکشتیاں شعلوں کی دریا موم کے بہتے رہے کیسے پہنچے منزلوں تک وحشتوں کے قافلےہم سرابوں سے سفر کی داستاں کہتے رہے آنے والے موسموں کو تازگی ملتی

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے Read More »

تنہائی میں

میرے شانوں پہ ترا سر تھا نگاہیں نمناکاب تو اک یاد سی باقی ہے سو وہ بھی کیا ہےگھر گیا ذہن غم زیست کے اندازوں میںہر ہتھیلی پہ دھرے سوچ رہا ہوں بیٹھاکاش اس وقت کوئی پیر خمیدہ آ کرکسی آزردہ طبیعت کا فسانہ کہتااک دھندلکا سا ہے دم توڑ چکا ہے سورجدن کے دامن

تنہائی میں Read More »

زندگی کا وقفہ – Zindagi Ka Waqfa

رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےدیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہےمیں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائےسونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوںدن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیرایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سبکچھ نہیں لکھا

زندگی کا وقفہ – Zindagi Ka Waqfa Read More »

آخری ملاقات

آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صداسونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کےہے شمع انجمن کا نیا حسن جاں گدازشاید نہیں رہے وہ پتنگوں کے ولولےتازہ نہ رہ سکیں گی روایات دشت و دروہ فتنہ سر گئے جنہیں کانٹے عزیز تھےاب کچھ نہیں تو نیند سے آنکھیں

آخری ملاقات Read More »

مسجد

دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکےایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلسپاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہےاور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھیگیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا

مسجد Read More »

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکارچلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یار چلو نکھاریں گے اپنے لہو سے عارض گلیہی ہے رسم وفا اور منچلوں کا شعار جو زندگی میں ہے وہ زہر ہم بھی پی ڈالیںچلو ہٹائیں گے پلکوں سے راستوں کے خار یہاں تو سب ہی ستم دیدہ غم

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار Read More »

مجھ پر ہے ابھی نزع کا عالم کوئی دم اور

مجھ پر ہے ابھی نزع کا عالم کوئی دم اورپھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اورگر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور یہ مے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اورتو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور

مجھ پر ہے ابھی نزع کا عالم کوئی دم اور Read More »

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گاہاتھ پھولوں پہ بھی رکھو گے تو جل جائے گا جس کو محفل سے نکالو گے نکل جائے گامگر ادبار تو ادبار ہے ٹل جائے گا کہیں فطرت کے تقاضے بھی بدل سکتے ہیںگھاس پر شیر جو پالو گے تو پل جائے گا کہہ دیا تھا

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا Read More »

کہتا ہے باغبان لہٰذا نہ چاہئے

کہتا ہے باغبان لہٰذا نہ چاہئےورنہ چمن کا حال چھپانا نہ چاہئے اس مشورہ کے ساتھ کہ چرچا نہ چاہئےدل کہہ رہا ہے ان پہ بھروسہ نہ چاہئے پڑ جائے خد و خال مناظر پہ روشنیاتنے قریب سے بھی نظارہ نہ چاہئے ہم غور کر رہے ہیں تو محفل ہے فکر میںاٹھنا نہ چاہئے کہ

کہتا ہے باغبان لہٰذا نہ چاہئے Read More »