MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میںجھانک رہی ہے دنیا مجھ میں کوئی پرانا شہر ہے جس کاکھلتا ہے دروازہ مجھ میں دیا جلا کے چھوڑ گیا ہےکوئی اپنا سایا مجھ میں بند ہوئی جاتی ہیں آنکھیںکیسا منظر جاگا مجھ میں آوازیں دیتا ہے مجھ کوکوئی میرؔ کے جیسا مجھ میں کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والابھول گیا […]

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں Read More »

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگاگھر کا خالی راستہ اچھا لگا ساحلوں پر ہاتھ لہرانے لگےمجھ کو اپنا ڈوبنا اچھا لگا شام جیسے آنکھیں جھپکانے لگیاس کے ہاتھوں میں دیا اچھا لگا بچے نے تتلی پکڑ کر چھوڑ دیآج مجھ کو بھی خدا اچھا لگا ہلکی بارش تھی ہوا تھی شام تھیہم کو اپنا بھیگنا

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا Read More »

وہ رات آئی کہ چہرا ترا تمام ہوا

وہ رات آئی کہ چہرا ترا تمام ہوامیں خواب میں تھا مرا جاگنا تمام ہوا ستارہ ایک سرائے پہ آ کے ٹہر گیادعا تمام ہوئی راستہ تمام ہوا قسم ہے صبح کی جب صبح سانس لینے لگیپھر اس کے بعد خدا نے کہا تمام ہوا کسی کا چہرا تراشا گیا ہواؤں میںکسی کا نام پکارا

وہ رات آئی کہ چہرا ترا تمام ہوا Read More »

زباں ہے گنگ مری اور ہاتھ لرزیدہ

زباں ہے گنگ مری اور ہاتھ لرزیدہمگر یہ دل ہے تپیدہ، تو چشم نم دیدہ ثنائے لختِ دلِ مصطفیٰ ہے پیشِ نظرتمام حرف مودب ہیں، لفظ گرویدہ مثالِ بلبلِ بے تاب میں طواف کناںوہ گل ستانِ محمد کا اک گلِ چیدہ مثالِ حیدرِ صفدر شجاعتیں تیریہیں تیری تاب سے شامی تمام رم دیدہ سوارِ دوشِ

زباں ہے گنگ مری اور ہاتھ لرزیدہ Read More »

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیامختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیا پھول سے موسم کی برساتیں ہواؤں کی مہکاب کے موسم کی وہ سب شامیں سہانی لے گیا دے گیا مجھ کو سرابوں کا سکوت مستقلمیرے اشکوں سے وہ دریا کی روانی لے گیا خاک اب اڑنے لگی میدان صحرا

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا Read More »

عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہا

عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہاوہ روشنی کا مسافر اندھیرے گھر میں رہا وہ چاندنی کا مرقع نہیں تھا جگنو تھاچراغ بن کے جلا اور شجر شجر میں رہا کہاوتوں کی طرح وہ بھی شہر معنی تھابجھا بجھا سا دیا جو کسی کھنڈر میں رہا وہ جس کو کھوج سرابوں میں تھی سمندر

عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہا Read More »

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتاتو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتا وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہوفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا بھٹک رہے ہیں مسافر تو راستے گم ہیںاندھیری رات میں دیپک کوئی جلا رکھتا مہک مہک کے بکھرتی ہیں اس کے آنگن میںوہ اپنے گھر کا

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا Read More »

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھے

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھےآہٹ مگر جنوں کی بچا لے گئی مجھے پتھر کے جسم موم کے چہرے دھواں دھواںکس شہر میں اڑا کے ہوا لے گئی مجھے ماتھے پہ اس کے دیکھ کے لالی سندور کیزخموں کی انجمن میں حنا لے گئی مجھے خوشبو پگھلتے لمحوں کی سانسوں میں کھو گئیخوشبو

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھے Read More »

جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتے

جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتےاب کسی بھی مرکز سے دائرے نہیں ملتے دو قدم بچھڑنے سے قافلے نہیں ملتےمنزلیں تو ملتی ہیں راستے نہیں ملتے بارہا تراشا ہے ہم نے آپ کا چہرہآپ کو نہ جانے کیوں آئنہ نہیں ملتے وقت کی کمی کہہ کر جہل کو چھپاتے ہیںآج کل کتابوں

جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتے Read More »