MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں پڑوسی ہوں بڑے دیں دار کا

میں پڑوسی ہوں بڑے دیں دار کاکیا بگڑتا ہے مگر مے خوار کا؟ ہم وطن کے ہیں، وطن سرکار کاحکم چلتا ہے مگر زردار کا خشک لب کھیتوں کو پانی چاہیے"کیا کریں گے ابرِ گوہر بار کا” یہ "چھچھورا شخص” پہچانے اسے؟خون ہے اس میں کسی سرکار کا پھر رہا ہے ناک کٹوائے ہوئےہائے رتبہ […]

میں پڑوسی ہوں بڑے دیں دار کا Read More »

چبھائی ہیں جس نے میری آنکھوں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوں

چبھائی ہیں جس نے میری آنکھوں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوںمگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں​ فریبِ تخیل سے میں ایسے ہزار نقشے جما چکا ہوںحقیقتاََ میرا سر ہے زانو پہ تیرے یا خواب دیکھتا ہوں​ پیام آیا ہے تم مکاں سے کہیں نہ جانا میں آرہا ہوںمیں اس

چبھائی ہیں جس نے میری آنکھوں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوں Read More »

دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیں

دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیںاپنا جن کو کہتے ہیں ہم دشمن اُن سے اچھے ہیں میرے حال پہ ہنسنے والو! مانگو مستقبل کی خیرمجبوروں پر ہنسنے والے اکثر روتے دیکھے ہیں آپ کو میرے صحرا کے کانٹو ں پر بستر کا کیا دردآپ تو پھولوں کے دامن میں نکہت

دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیں Read More »

جو بھی اپنوں سے الجھتا ہے وہ کر کیا لے گا

جو بھی اپنوں سے الجھتا ہے وہ کر کیا لے گاوقت بکھری ہوئی طاقت کا اثر کیا لے گا خار ہی خار ہیں تاحدِّ نظر دیوانےہے یہ دیوانہء انصاف ادھر کیا لے گا جان پر کھیل بھی جاتا ہے سزاوار قفساس بھروسے میں نہ رہیئے گا یہ کر کیا لے گا پستیء ذوقِ بلندیء نظر

جو بھی اپنوں سے الجھتا ہے وہ کر کیا لے گا Read More »

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوںسمجھ سکو تو ٹھکانے کی بات کرتا ہوں شراب تلخ پلانے کی بات کرتا ہوںخود آگہی کو جگانے کی بات کرتا ہوں سخنوروں کو جلانے کی بات کرتا ہوںکہ جاگتوں کو جگانے کی بات کرتا ہوں اُٹھی ہوئی ہے جو رنگینیء تغزل پروہ ہر نقاب گرانے کی بات

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں Read More »

اپنے احسان کا سرطان ہوں میں

اپنے احسان کا سرطان ہوں میںزندگی تجھ سے پشیمان ہوں میں میں کہ سورج کی طرح چمکا تھااب چراغوں سے پریشان ہوں میں کیا یہ میں تھا جو نظر آتا ہوںآئنہ دیکھ کہ حیران ہوں میں دل دھڑکتا ہے تو خوف آتا ہےکیسی بستی کا نگہبان ہوں میں کون پہچانے مجھے ارضِ وطنذرہ ذرہ کا

اپنے احسان کا سرطان ہوں میں Read More »

ذکرِ بے داد کہاں کرتے ہیں

ذکرِ بے داد کہاں کرتے ہیںلوگ فریاد کہاں کرتے ہیں بدگماں ہم سے نہ ہوں آپ کہ ہمآپ کو یاد کہاں کرتے ہیں وقفِ تزئینِ بیابان ہیں ہمگھر کو آباد کہاں کرتے ہیں اب بھی کچھ لوگ بحدِ امکاںفکرِ صیاد کہاں کرتے ہیں ہم تو جاں سے بھی گزر جائیں مگرآپ ارشاد کہاں کرتے ہیں

ذکرِ بے داد کہاں کرتے ہیں Read More »

ہوائیں اس گلی سے آ رہی ہیں

ہوائیں اس گلی سے آ رہی ہیںجفائیں اس گلی سے آ رہی ہیں کوئی تو سانحہ گزرا ہے ایساکراہیں اس گلی سے آ رہی ہیں ہمیں معلوم ہے انجام اپنابلائیں اس گلی سے آ رہی ہیں یقینا دل زمیں سیراب ہوگیگھٹائیں اس گلی سے آ رہی ہیں کسی بھی طرح سے زندہ رہوں میںدعائیں اس

ہوائیں اس گلی سے آ رہی ہیں Read More »

یہ تخیل عمر بھر سویا رہا تو غم نہیں

Yeh Takhyal umr bhar sooya raha to gham nahi غزل یہ تخیل عمر بھر سویا رہا تو غم نہیں ہجرتوں کی کلفتوں کو سہہ لیا تو غم نہیں زندگی کے راستوں میں بھیڑ تھی احباب کی سب نے میرے ظرف کو دھوکا دیا تو غم نہیں طوق اس کی چاہتوں کے شوق سے پہنے مگر

یہ تخیل عمر بھر سویا رہا تو غم نہیں Read More »

کانٹوں بھری حیات کی تنہائیوں کا حال

Kaantoo bhari Hayyat ki Tanhayoo ka Haal غزل کانٹوں بھری حیات کی تنہائیوں کا حالوہ پوچھتا ہے رات کی تنہائیوں کا حال اندھی طویل راہ سے بیزار ہوں تو کیا لکھنا ہے التفات کی تنہائیوں کا حال پروردگار تیری نظر میں رہے سدا اس میری کائنات کی تنہائیوں کا حال خوشیاں ملیں اُسے تو ملا

کانٹوں بھری حیات کی تنہائیوں کا حال Read More »