MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس محبت کی میاں ترسیل ہونی چاہئے

اس محبت کی میاں ترسیل ہونی چاہئے زندگی پھر سے نئی تشکیل ہونی چاہئے یار کی صورت نظر آئے نہ جس دن دوستو پیر منگل ہو یا کچھ تعطیل ہونی چاہئے عشق کے اس فلسفے کی باوضو تحریر کی وقت کے ہاتھوں یہاں تکمیل ہونی چاہئے رنج و غم کو قید کرنے کے لئے دامانِ […]

اس محبت کی میاں ترسیل ہونی چاہئے Read More »

پوچھتے کیا ہو جو حال شب ِتنہائی تھا

پوچھتے کیا ہو جو حال شب ِتنہائی تھارخصت ِصبر تھی یا ترک ِشکیبائی تھا شب ِفرقت میں دل ِغمزدہ بھی پاس نہ تھاوہ بھی کیا رات تھی،کیا عالم ِتنہائی تھا میں تھا یا دیدہء خوں نابہ فشاں بھی شب ِہجران کو واں مشغلہء انجمن آرائی تھا پار ہائے دل خونیں کی طلب تھی پیہمشب جو

پوچھتے کیا ہو جو حال شب ِتنہائی تھا Read More »

عدلِ جہانگیری

قصر شاہی میں کہ‌ ممکن نہیں غیروں کا گزرایک دن نور جہاں، بام پہ تھی جلوہ فگن،کوئی شامت زدہ راہگیر اُدھر آنکلاگرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغنغیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ مارا،خاک پر ڈھیر تھا اک کشتہ بے گورو کفنساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبرغیظ سے آگئے اُبروئے عدالت

عدلِ جہانگیری Read More »

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤگے کیا

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤگے کیاایک دن گھر نہیں جاؤ گے تو مر جاؤ گے کیا پیڑ نے چاند کو آغوش میں لے رکھا ہےمیں تمھیں روکنا چاہوں تو ٹہھر جاؤگے کیا یہ زمستانِ تعلق یہ ہوائے قربتآگ اوڑھو گے نہیں یونہی ٹھٹھر جاؤگے یہ تکلم بھری آنکھیں، یہ ترنّم بھرے ہونٹتم اسی

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤگے کیا Read More »

ایک دن فاطمہؓ اپنے شوہر کے گھر

ایک دن فاطمہؓ اپنے شوہر کے گھرجبکہ روٹی پکانے میں مصروف تھیںکام اچانک کوئی یاد آیا انہیںچند لمحوں کی خاطر وہ باہر گئیںروٹی جلنے لگیاتفاقاً وہیں تھے رسول خداؐاپنے ہاتھوں سے روٹی کو الٹا دیادیر تک آگ چولہے میں جلتی رہیروٹی پک نہ سکیآپ حیران تھیںوجہ پوچھیں تو گویا ہوئے مصطفی ؐجس کو میں نے

ایک دن فاطمہؓ اپنے شوہر کے گھر Read More »

خطاؤں پر شفاعت کی ردائیں ڈالنے والے

خطاؤں پر شفاعت کی ردائیں ڈالنے والےشبِ معراج بھی امت کی خاطر سوچنے والےطہارت بخشنے والےدلوں کو پھیرنے والےتمہارے دم سے دنیا کو ملیتفریقِ خیر و شرزمیں والوں کو جینے کا چلن تم نے سکھایا ہےتمہاری شخصیت اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہےسلیقہ تم سے قائم ہےمحبت تم سے قائم ہےبیانِ اسوۂ حسنیٰپرے ہے لفظ و

خطاؤں پر شفاعت کی ردائیں ڈالنے والے Read More »

اک مسافر

اک مسافرجس کی راہوں میں کانٹے بچھائے گئےکوششیں رات دنراہِ حق سے ہٹانے کی ہوتی رہیںوہ تھا ثابت قدمصرف چلتا رہااس مسافر نے رکھے جہاں بھی قدموہ جگہ سجدہ گاہوں سے افضل ہوئیجس گلی سے بھی گزرا وہ مردِ خدااس گلی کی فضائیں معطر ہوئیںاس کی چاہت ہوئیاس کو ڈھونڈھا گیااس کے قدموں کی آہٹ

اک مسافر Read More »

آپ کی عمر مبارک

روح الامیں نے ایک دندعویٰ کیایا مصطفی ؐآپؐ مجھ سے عمر میں کیسے بڑے ہو جائیں گےمیں ! خدا کا قاصد اول بھی ہوںاور قاصد آخر بھی ہوںمسکرا کر آپؐ نے پوچھاکہ اے روح الامیںعمر کیا ہے آپ کیفرمایا تب جبرئیل نےاک ستارہ میں نے دیکھا ہے ہزاروں مرتبہوہ ابھرتا ہے افق پر ایک بارجب

آپ کی عمر مبارک Read More »

رفتہ رفتہ گھٹ رہی تھی طاقت صبر و سکوں

رفتہ رفتہ گھٹ رہی تھی طاقت صبر و سکوںضبط گر یہ غیر ممکن ہو گیاآنسؤں کے چار قطرےروئے انور پر پڑےنیند سے بیدار ہو کر وجہ پوچھی آپؐ نےجب کیا صدیقؓ نے،دشمن ہے کوئی غار میںڈس رہا ہے ایڑیوں کو دیر سےایڑیوں جب ہٹایاسانپ باہر آ گیاچوم کو حضرت محمدؐ کے قدماپنے مسکن کی طرف

رفتہ رفتہ گھٹ رہی تھی طاقت صبر و سکوں Read More »

لن ترانی کی تسبیح پڑھتے ہوئے

لن ترانی کی تسبیح پڑھتے ہوئےزندگی کے کئی سال کاٹے گئےاک تجلی کا پردہ گرایا گیاطور جلنے لگاموسیٰ بے ہوش تھےیاں کوئی پردہ حائل نہ تھا درمیاںصرف قوسین کا فاصلہ رہ گیاہمت مصطفی ؐجرأت مصطفیؐوہ نہ بے ہوش تھےنہ پریشان تھےدوستوں کی طرح گفتگو ہو گئیدوستوں کی طرح رخصتی ہو گئی ایس ایم عقیل

لن ترانی کی تسبیح پڑھتے ہوئے Read More »