MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کامجھ سے پوشیدہ ہے عالم تری رعنائی کا مانع جلوہ گری خوف ہے رسوائی کابس اسی پر تمہیں دعویٰ ہے زلیخائی کا کیا کہوں گر اسے اعجاز محبت نہ کہوںحسن خود محو تماشا ہے تماشائی کا اشک جو آنکھ سے باہر نہیں آنے پاتاآئینہ ہے مرے جذبات کی گہرائی […]

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا Read More »

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کامنہ پر لیا ہے مہر نے دامن سحاب کا تصویر میں نے مانگی تھی شوخی تو دیکھیےاک پھول اس نے بھیج دیا ہے گلاب کا اب کیا سنائیں ٹوٹے ہوئے دل کی داستاںآہنگ بے مزہ ہے شکستہ رباب کا اتنے فریب کھائے ہیں دل نے کہ اب مجھےہوتا

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا Read More »

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہےچاند میں سچ مچ نور کہاں ہے چاند تو اک ویرانہ ہے ناز پرستش بن جائے گا صبر ذرا اے شورش دلالفت کی دیوانہ گری سے حسن ابھی بیگانہ ہے مجھ کو تنہا چھوڑنے والے تو نہ کہیں تنہا رہ جائےجس پر تجھ کو ناز ہے اتنا اس

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے Read More »

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے توآس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھولاس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ د یں اپنی مرضی تککوئی ملے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو Read More »

کوئی اَدا شناسِ محبّت ہَمَیں بتائے

کوئی اَدا شناسِ محبّت ہَمَیں بتائےجو ہم کو بُھول جائے ، وہ کیوں ہم کو یاد آئے اِک دِلنشیں نِگاہ میں، اللہ یہ خلشنشتر کی نوک جیسے کلیجے میں ٹُوٹ جائے کہتے تھے تُم سے چُھوٹ کر، کیونکر جئیں گے ہمجیتے ہیں تُم سے چُھوٹ کے، تقدِیر جو دِکھائے کُچھ ہم سے بے خُودی میں

کوئی اَدا شناسِ محبّت ہَمَیں بتائے Read More »

پہلے اک عمر تجھ کو سوچیں گے

پہلے اک عمر تجھ کو سوچیں گے پھر غزل تیرے نام لکھیں گے لب تو خاموش کر لئے ہم نے کس طرح آنسوؤں کو روکیں گے رکھ کے اس دل پہ ایک کوہِ گراں کر کے ہم انتظار دیکھیں گے جو بھی پرسانِ حال ہیں میرے لب سئے میرے پاس آئیں گے ڈھونڈنے کو وفاؤں

پہلے اک عمر تجھ کو سوچیں گے Read More »

مجھے خود میں سمائے پھر رہی ہے

مجھے خود میں سمائے پھر رہی ہے ہوا مجھ کو اُڑائے پھر رہی ہے ٹھکانہ مل سکا نہ اس نگر میں مجھے قسمت بھگائے پھر رہی ہے امیرِ شہر کی نیّت ہماری تمنّائیں دبائے پھر رہی ہے گڑی ہیں سُولیاں ہر ہر قدم پر قضا مقتل سجائے پھر رہی ہے ہے سر پہ سائباں گو

مجھے خود میں سمائے پھر رہی ہے Read More »

نگاہوں سے جو وہ کرتے ہیں پتھر دیکھتے ہیں

نگاہوں سے جو وہ کرتے ہیں پتھر دیکھتے ہیں چلو یہ معجزہ اک بار مڑ کر دیکھتے ہیں سماعت پر گراں جن کی ہے آوازِ اذاں بھی نشے کے بل پہ خود کو وہ قلندر دیکھتے ہیں اُٹھا کے کل پہ رکھتے ہیں شرافت کا لبادہ جہاں زاہد کہیں پہ لقمۂ تر دیکھتے ہیں کناروں

نگاہوں سے جو وہ کرتے ہیں پتھر دیکھتے ہیں Read More »

عشق کے صدقے یہاں ایسے اتارے جاتے

عشق کے صدقے یہاں ایسے اتارے جاتے ہم ترے شہر میں آتے ہوئے مارے جاتے ہم نے خاطر میں کہاں لہروں کو لانا تھا یہاں بیچ منجدھار نہ گر دور کنارے جاتے بھول بیٹھا ہے یہ دل ہائے مراسم سارے تو رقیبوں کے نگر کس کے سہارے جاتے حاصلِ زیست انہیں ہم بھی سمجھتے ہمدم

عشق کے صدقے یہاں ایسے اتارے جاتے Read More »

حسرتیں اندر ہی اندر پیتے لوگ

حسرتیں اندر ہی اندر پیتے لوگ جی رہے ہیں کس طرح گھٹ گھٹ کے لوگ تو فلک کی وسعتوں میں رہنے والا ہم زمیں کے مسئلوں میں الجھے لوگ ایک ہے قاتل ادھر مقتول اِدھر کیسے ہو سکتے ہیں یہ اک جیسے لوگ کچھ اِدھر آئے اُدھر کچھ رہ گئے دوریاں تو ہیں مگر ہیں

حسرتیں اندر ہی اندر پیتے لوگ Read More »