مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا
مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کامجھ سے پوشیدہ ہے عالم تری رعنائی کا مانع جلوہ گری خوف ہے رسوائی کابس اسی پر تمہیں دعویٰ ہے زلیخائی کا کیا کہوں گر اسے اعجاز محبت نہ کہوںحسن خود محو تماشا ہے تماشائی کا اشک جو آنکھ سے باہر نہیں آنے پاتاآئینہ ہے مرے جذبات کی گہرائی […]
مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا Read More »