MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیں

غزل لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیں چراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیں ملائمت ہے غزل کی سی اس کی باتوں میں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں صحیفۂ لب و رخسار و پیرہن اس کا تلاوتوں میں ہیں پتے شجر کے دیکھتے ہیں بلا […]

لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیں Read More »

رستے میں عجب آثار ملے

غزل رستے میں عجب آثار ملے جوں کوئی پرانا یار ملے جس طرح کڑکتی دھوپوں میں دو جسموں کو دیوار ملے جس طرح مسافر گاڑی میں اک رشتے کی مہکار ملے جس طرح پرانے کپڑوں سے اک چوڑی خوشبو دار ملے جس طرح اندھیرے کھیتوں میں اک رت مشعل بردار ملے جس طرح کوئی ہنس

رستے میں عجب آثار ملے Read More »

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا

غزل اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا جس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہوا یہ ترے عشق کی میقات یہ ہونی کی ادا دھوپ کے شیشے میں اک خواب سا پھیلایا ہوا باندھ لیتے ہیں گرہ میں اسی منظر کی دھنک ہم نے مہمان کو کچھ دیر ہے ٹھہرایا ہوا

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا Read More »

ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے

غزل ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے ہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہے ذرا سی چائے گری اور داغ داغ ورق یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشا ہے تمہارا بولتا چہرہ پلک سے چھو چھو کر یہ رات آئینہ کی ہے یہ دن تراشا ہے ترے وجود سے بارہ دری

ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے Read More »

اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا

غزل اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا مجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بننا کہتی ہے کہ آنکھوں سے سمندر کو نکالو ہنستی ہے کہ تم سے تو کنارہ نہیں بننا محتاط ہے اتنی کہ کبھی خط نہیں لکھتی کہتی ہے مجھے اوروں کے جیسا نہیں بننا تصویر بناؤں تو

اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا Read More »

پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں

غزل پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں رہتا ہوں اپنے ساتھ میں چاہے جہاں رہوں کیسا جہاں کہاں کا مکاں کون لا مکاں یعنی اگر کہیں نہ رہوں تو کہاں رہوں اے عشق میرا ہونا نہ ہونا ہے مجھ تلک اب میں نشان کھینچوں کہ میں بے نشاں رہوں کیا ڈھونڈھتا رہوں میں یوں

پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں Read More »

آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا

غزل آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا کیا بار بار ایک ہی صورت کو دیکھنا حاصل یہ ہے کہ ایک ہی ہے صفر کا حساب منفی کو دیکھنا کبھی مثبت کو دیکھنا اے وقت تو کہیں بھی کسی کا ہوا ہے کیا کیا تجھ کو دیکھنا تری ساعت کو دیکھنا دانشوران وقت ہوں جب

آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا Read More »

یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے

غزل یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے تھوڑی گزار لیں گے تھوڑا گزر گئی ہے یا موند لیں ہیں آنکھیں یا مند گئیں ہیں آنکھیں تجھ پر پس تماشا کیا کیا گزر گئی ہے ممکن نہیں ہے شاید دونوں کا ساتھ رہنا تیری خبر جب آئی اپنی خبر گئی ہے شور

یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے Read More »

یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے

غزل یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے خدا کا کیا ہے کہ وہ تو خدا بنا ہوا ہے دبا سکا نہ صدا اس کی تیری بزم کا شور خموش رہ کے بھی کوئی صدا بنا ہوا ہے میں چاہتا ہوں مسیحا کے دل میں بھی رکھ دوں وہ درد میرے

یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے Read More »

اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا

غزل اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا جو ہوا ٹھیک ہوا اور تو ہونا کیا تھا مرتے مرتے ہی مرے درد کی لذت کے حریص بے مداوا جو نہ مرتے تو مداوا کیا تھا اف وہ اطراف میں پھیلی ہوئی اشیا کا ہجوم ہائے اس شور میں اک دل کا

اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا Read More »