MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے

غزل اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے مرے سوال سے پاگل بنا دیا ہے مجھے کچھ اس طرح سے کہا مجھ سے بیٹھنے کے لیے کہ جیسے بزم سے اس نے اٹھا دیا ہے مجھے نہ خود ہی چین سے بیٹھے نہ مجھ کو بیٹھنے دے مرے خدا نے ستارہ بھی […]

اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے Read More »

سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ

غزل سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ شور قلم بہت ہے سماعت بحال رکھ زخم تلاش میں ہے نہاں مرہم دلیل تو اپنا دل نہ ہار محبت بحال رکھ نظارہ بے نظارہ ہوا ہے تو کیا ہوا حیرت کی تاب دید کی حسرت بحال رکھ بس میں تو خیر کچھ بھی نہیں ہے ترے

سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ Read More »

چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں

غزل چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں اٹھاؤ جام کہ پردے اٹھا دیے گئے ہیں اب اس کو دید کہیں یا اسے کہیں دیدار ہمارے آگے سے جو ہم ہٹا دیے گئے ہیں اب اس مقام پہ ہے یہ جنوں کہ ہوش نہیں مٹا دیے گئے ہیں یا بنا دیے گئے ہیں یہ راز

چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں Read More »

خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم

غزل خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم یعنی ہر حال کی حالت سے گزر جائیں گے ہم عالم وسعت امکاں نظر آئے گا ہمیں یعنی ہر دوری و قربت سے گزر جائیں گے ہم ختم ہو جائے گی سب کشمکش حرف و عدد یعنی ہر منفی و مثبت سے گزر جائیں

خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم Read More »

کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے

غزل کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے دل جو کھویا ہوا سا رہتا ہے ایک سناہٹے کا سینے میں بھاگنا دوڑنا سا رہتا ہے میں کہیں آؤں میں کہیں جاؤں وقت جیسے رکا سا رہتا ہے صبح کا دل کہیں نہیں لگتا شام کا دم گھٹا سا رہتا ہے دل کے آنے کا

کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے Read More »

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا

غزل ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا یعنی مرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں اور جواب میں مجھ کو ہنسا دیا گیا مجھ کو رلا دیا گیا میرے جنوں کو تھی بہت خواہش سیر و جستجو مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا Read More »

کیوں کر نہ ملے انہیں خدائی

غزل کیوں کر نہ ملے انہیں خدائی کرتے ہیں برے سے جو بھلائی مشفق یہ ہوئے جہاں میں پیدا رسوا نہ ہو کیوں کے آشنائی ٹک شیخ جی واں تلک تو چلئے دیکھیں گے تمہاری پارسائی سر جاوے تو جاوے اس سخن پر کب کرتے ہیں مرد ہے وفائی سر جاوے تو جاوے اس سخن

کیوں کر نہ ملے انہیں خدائی Read More »

مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل

غزل مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل سو جانیں ہوں تو کیجیے اس پر فدائے گل جاتا ہے مثل بو کے یہ دل اڑا ہوا کیوں کر بھلا نہ ہوں میں کہو مبتلائے گل سرسبز گل کی رکھے خدا ہر روش بہار اے باغباں نصیب ہو تجھ کو بلائے گل گلزار اس کے داغ

مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل Read More »

کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ کیوں تو نے رو دیا

غزل کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ کیوں تو نے رو دیا دل نے کیا تھا جمع سو آنکھوں نے کھو دیا دل کو اگرچہ داغ دیا یا جگر کو زخم میں نے بجاں قبول کیا اس نے جو دیا تھا خاندان چشم تو روشن جہاں کے بیچ اے طفل اشک تو نے یہ گھر

کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ کیوں تو نے رو دیا Read More »

بات کہنے کی نہیں طاقت شکایت کیا کروں

غزل بات کہنے کی نہیں طاقت شکایت کیا کروں عشق رخصت دے تو شور حشر اب برپا کروں کج روی پر اس کی آتا ہے ڈبا دوں اشک سے دود آہ دل سے اور ہی میں فلک پیدا کروں دین و ایماں اور دل و جاں رونمائی دے چکے ہے رہا کیا جو خریدار اس

بات کہنے کی نہیں طاقت شکایت کیا کروں Read More »