MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہے

غزل اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہے مٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہے بے وقعت و کم مایہ سہی خواب ہمارے خوابوں سے الگ ہونے کی تعزیر عجب ہے میں شعر کہوں اور ترے نام پہ رو دوں یہ رنج کا پیرایۂ دلگیر عجب ہے آنکھوں میں بچھے سرمئی مخمل کی ادا […]

اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہے Read More »

گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب

غزل گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب ہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجاب لحد کی مٹی کی تقدیر کی امان میں دوں سفید لٹھے میں کفنا کے سرخ شاخ گلاب میں آسمان ترے جسم پہ بچھا دیتا مگر یہ نیل میں چادر بنی نہیں کمخواب ترا وہ

گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب Read More »

سبز حکایت سرخ کہانی

غزل سبز حکایت سرخ کہانی تیرے آنچل کی مہمانی سہج سہج اس حسن کا چلنا اس پہ اندھی شب طوفانی اک مصرع وہ جسم اکہرا دوجا میرے لب دہقانی جلد سنہری ہونٹ پیازی اس پہ خواہش کی ارزانی بالوں کا گھنگھور اندھیرا ابھری اینٹوں کی حیرانی پنڈلی سے ٹکراتی پنڈلی اترن کی فتنہ سامانی اک

سبز حکایت سرخ کہانی Read More »

کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے

غزل کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے حرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنے کھلے گلے کی قمیصیں کھلے گلے کے فراق یہ لڑکیاں ہیں بدلتی ہیں پیرہن اپنے غدر کے پھول سجاتی ہیں ایسے بالوں میں سنبھال سکتی ہوں جیسے بھرے بدن اپنے عجب بھڑک ہے شرابوں کی اور آنکھوں کی بلا ہے

کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے Read More »

کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو

غزل کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو کسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہو قضا ہوا ہے ایک جسم بے طرح کہیں ہماری آنکھ بے وضو نہ ہو ہتھیلیوں میں بھر کے بات تو کریں چراغ کو مکالمے کی خو نہ ہو دمک رہا ہے کیسری حجاب سے اس آئینے میں کوئی ہو

کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو Read More »

دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں

غزل دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں جیون خوش بخت ہوا ہی نہیں اسے توڑنا بھی تو نرمی سے یہ دل کبھی سخت ہوا ہی نہیں آنکھوں نے بہت اصرار کیا سپنا دو لخت ہوا ہی نہیں ہم ہنس کر اسے رلا دیتے وہ اور کرخت ہوا ہی نہیں تجھ شہر تجھے ہم آ

دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں Read More »

سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں

غزل سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں الجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میں یہ ترے بالوں کا تالاب کی تہ کو چھونا حالت خواب میں یا عالم عریانی میں بے حجابانہ کسی لہر کا تجھ تک آنہ پھر ترے جسم کا بہہ جانا گھنے پانی میں کہکشاؤں کا غزالوں کا غزل زادوں کا

سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں Read More »

یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیں

غزل یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیں کعبۂ عشق نہیں روضہ یک خواب نہیں ایک کولاژ بناتی ہے تری خاموشی خط انکار نہیں صورت ایجاب نہیں کہر کی رحل پہ اور دھند کے جزدان میں وہ اک صحیفہ ہے کہ جس پر کوئی اعراب نہیں اک کہانی کے پس و پیش تری آہٹ

یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیں Read More »

سر کو آواز سے وحشت ہی سہی

غزل سر کو آواز سے وحشت ہی سہی اور وحشت میں اذیت ہی سہی خاک زادی ترے عشاق بہت میں تری یاد سے غارت ہی سہی وہ کہاں ہیں کہ جو مصلوب نہ تھے میری مٹی میں بغاوت ہی سہی آہ و آہنگ و اہانت کے کنار اے مری پیاس پہ تہمت ہی سہی خود

سر کو آواز سے وحشت ہی سہی Read More »

لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے

غزل لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے کسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سے سڈول بانہوں میں بھرتا میں لوچ ساون کا وہ سنگ موم میں ڈھالا نہیں گیا مجھ سے میں خواب پڑھتا تھا ہمسائیگی کی ابجد سے مگر وہ حسن خیالا نہیں گیا مجھ سے وہی ہے میرے لہو میں

لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے Read More »