MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کلیم آکہ چلتی ہیں پروائیاں

کلیم آکہ چلتی ہیں پروائیاںسناکوئی تازہ غزل سائیاںتوسائیںہے اورسائیں کی جھولی میںچھپی ہے بہت بزم آرائیاںمیں کیاحال ان کابتائوں تجھےدکھاتے پھرے ہیں جو مرزائیاںحقیت میں ہے مال سستامگربڑھاتے ہیں پیکنگ سے مہنگائیاںلفافے ہیں لمبے ،مضامیں سبکغزل ہوں کہ نظمیں کہ چوپائیاںکرائے کے اجرائ،کرائے کے جشنکرائے کی مضمون آرائیاںاب ایسے میں کاہے توخاموش ہےسناسائیاں کچھ سناسائیاںمحقق

کلیم آکہ چلتی ہیں پروائیاں Read More »

بلاتے کیوں ہو عاجز کو بلانا کیامزا دے ہے

بلاتے کیوں ہو عاجز کو بلانا کیامزادے ہےغزل کمبخت کچھ ایسے پڑھے ہے دل ہلادے ہے محبت کیابلا ہے چین لیناہی بھلادے ہےذرابھی آنکھ جھپکے ہے توبیتابی جگادے ہے ترے ہاتھوں کی سرخی خود ثبوت اس بات کا دے ہےکہ جو کہہ دے ہے دیوانہ وہ کرکے بھی دکھادے ہے غضب کی فتنہ سازی آئے

بلاتے کیوں ہو عاجز کو بلانا کیامزا دے ہے Read More »

کیا غم ہے اگر شکوۂ غم عام ہے پیارے

کیا غم ہے اگر شکوۂ غم عام ہے پیارےتوُ دِل کو دُکھا.، تیرا یہی کام ہے پیارے! تیرے ہی تبسّم کا سحر نام ہے پیارے!توُ کھول دے گیسوُ تو بھری شام ہے پیارے جب پیار کیا، چین سے کیا کام ہے پیارے؟اِس میں تو تڑپنے ہی میں آرام ہے پیارے چھوُٹی ہے، نہ چھوُٹےگی کبھی

کیا غم ہے اگر شکوۂ غم عام ہے پیارے Read More »

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟ تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا؟کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دکھا ہے کیا؟ تو

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟ Read More »

زخموں کے نئے پھول کِھلانے کے لئے آ

زخموں کے نئے پھول کِھلانے کے لئے آپھر موسمِ گُل یاد دلانے کے لئے آ مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زُلفیںآ، پھر مجھے دِیوانہ بنانے کے لئے آ اب لُطف اِسی میں ہے، مزا ہے تو اِسی میں!آ اے مِرے محبُوب! ستانے کے لئے آ آ، رکھ دَہَنِ زخم پہ، پِھر اُنگلیاں اپنیدِل بانسری

زخموں کے نئے پھول کِھلانے کے لئے آ Read More »

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیاغنچے بھی چٹ سے فق ہوئے سارے چمن نے غش کیا نالہ بھرا جو یاد میں میں نے شمیم یار کینبضیں گلوں کی چھٹ گئیں بوئے سمن نے غش کیا میرے تمہارے رابطے دیکھے بہم تو رشک سےنل تو پچھاڑ کھا گرا اس کی

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا Read More »

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم، اچھا

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم، اچھالو، ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم، اچھا مشغول کیا چاہیے، اِس دل کو کسی طورلے لیویں گے ڈھونڈ، اور کوئی یار ہم اچھا گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائیہر طور غرض، آپ سے ، ملنا ہے کم اچھا جو شخص

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم، اچھا Read More »

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارااس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا تم نے تو نہیں، خیر یہ فرمائیے بارےپھر کن نے لیا ، راحت و آرام ہمارا میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس تو بولےکیوں، کس لئے ، کس واسطے کیا کام ہمارا؟ رکھتے ہیں کہیں پاؤں تو پڑے ہیں کہیں

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا Read More »

سودا زندہ ہے تو یہ تدبیر کریں گے

سودا زندہ ہے تو یہ تدبیر کریں گےاس زلف گرہ گیر کی زنجیر کریں گے غصے میں ترے ہم نے بڑا لطف اٹھایااب تو عمداً اور بھی تقصیر کریں گے دیکھیں گے کہ جب آتے تھے آپ ایک ادا سےہو چیں بہ جبیں تکیہ بہ شمشیر کریں گے یہ نالہ جاں کاہ پر از حسرت

سودا زندہ ہے تو یہ تدبیر کریں گے Read More »

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میںکیا جانے کس نے کس سے کیا کر لیا چمن میں چڑھ بیٹھا یاسمیں کی گردن پہ عشق پیچاںآیا کدھر سے کافر یہ تسمہ پا چمن میں نالے پہ میرے نالے کرنے لگی ہے اب توبلبل نے یہ نکالا نخرا نیا چمن میں تکلیف سیر گلشن

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں Read More »