MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سودا زندہ ہے تو یہ تدبیر کریں گے

سودا زندہ ہے تو یہ تدبیر کریں گے
اس زلف گرہ گیر کی زنجیر کریں گے

غصے میں ترے ہم نے بڑا لطف اٹھایا
اب تو عمداً اور بھی تقصیر کریں گے

دیکھیں گے کہ جب آتے تھے آپ ایک ادا سے
ہو چیں بہ جبیں تکیہ بہ شمشیر کریں گے

یہ نالہ جاں کاہ پر از حسرت و درد آہ
تا بند ترے دل میں نہ تاثیر کریں گے

چمکا ہے ترا رنگ جو نظارے سے اپنے
پوچھ اہل نظر سے کہ وہ تقریر کریں گے

چندے جو بسر یوں ہوئی اوقات تو ہم یار
مکھڑے کو ترے عالم تصویر کریں گے

دل شاد رکھ انشا متفکر نہ ہو ہرگز
عقدے ترے حل حضرت شبیر کریں گے

انشاء اللہ خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم