MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذہے ورنہ کون شے مئے گل فام سے لذیذ چٹکارے کیوں بھرے نہ زباں تیرے ذکر میںکوئی مزہ نہیں ہے ترے نام سے لذیذ گالی وہ اس کی ہو ہو کی آنکھیں دکھاتے وقتہے واقعی کہ پستہ و بادام سے لذیذ انشا کو لذت اس کی جوانی

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ Read More »

کام فرمائیے کس طرح سے دانائی کو

کام فرمائیے کس طرح سے دانائی کولگ گئی آگ یہاں صبر و شکیبائی کو عشق کہتا ہے یہ وحشت سے جنوں کے حق میںچھیڑ مت بختوں جلے میرے بڑے بھائی کو کیا خدائی ہے منڈانے لگے اب خط وہ لوگدیکھ کر ڈیوڑھی میں چھپ رہتے تھے جو نائی کو وعدہ کرتا ہے غزالانِ حرم کے

کام فرمائیے کس طرح سے دانائی کو Read More »

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیںکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلاسکتے ہیں مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملاسکتے ہیں؟منہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آسکتے ہیں؟ یاں و آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹآگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں سوچئے توسہی، ہٹ دھرمی نہ کیجئے صاحبچٹکیوں میں مجھے کب

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں Read More »

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذہیں اس میں پڑے بندے کے دیوان کے کاغذ اس طِفل کو بیتوں کا مری شوق ہوا تومحسوس ہوئے سارے گلستان کے کاغذ ہر وصلی سرکار پہ جدول ہے طلائیاب آپ لگے رکھنے بڑی شان کے کاغذ اس شوخ نے کل ٹکڑے زلیخا کے کیے اورمارے سر استاد

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ Read More »

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیںبہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنیتجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں تصور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی ہرغرض کچھ اور دھُن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں بسانِ نقش

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں Read More »

سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنے

سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنےبد دعا میں ہے دعا اس کی دعا کے سامنے میں تمہارے سامنے اس واسطے خاموش ہوںفیصلہ ہو جائے گا اک دن خدا کے سامنے عزت و شہرت محبت سے یہ دامن بھر گیاشکر کے سجدے کروں رب کی عطا کے سامنے کر چکی ہے اب جہاں آرا تبسمؔ

سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنے Read More »

” تخلیق "

مجھے تخلیق کرنے جارھے ھوچلو ایسا کرو….مجھ میں محبت ، دردمندیروشنی اپنائیت،حساسیت اور خیرسب کچھ جمع کردوجب ایسا کرچکو…..تو مجھے نفرت ، دکھ سے بھرے کانٹوںاذیت ، بے وفائی اورغم سے ضرب دیناتمہاری ضرب سے میں کچھ بچوں تومجھ سے میرے سارے جذ بے ،خواہشیںمیرے تقاضا ھائے جسم وجاںمحبت کی ضرورت کے تقاضےاور میری روح

” تخلیق " Read More »

وہ مجھے اتنی سہولت تو نہیں دے سکتا

وہ مجھے اتنی سہولت تو نہیں دے سکتاکم سے کم اپنی محبت تو نہیں دے سکتا اختیارات مجھے سارے عطا کر دے گاہاں مگر دل پہ حکومت تو نہیں دے سکتا چند لمحوں کے لیئے ذہن میں رکھ سکتا ھےوادی ء دل میں سکونت تو نہیں دے سکتا سوچ سکتی ھوں کسی اور کے بارے

وہ مجھے اتنی سہولت تو نہیں دے سکتا Read More »

کانوں میں ترے آج بھی رس گھول رہی ھوں

کانوں میں ترے آج بھی رس گھول رہی ھوںاچھا لگے جو تجھ کو وہی بول رہی ھوں دنیا سے الجھنے کا ابھی وقت کہا ں ہےزلفوں کے خم و پیچ سبھی کھول رہی ھوں کہنے کو لگا تی رہی دنیا مری قیمتعورت ھوں ہر اک دور میں انمول رہی ھوں آنسو میری آنکھوں سے ٹپکتے

کانوں میں ترے آج بھی رس گھول رہی ھوں Read More »

عمر بھر جس کی محبت میں گرفتار رہی

عمر بھر جس کی محبت میں گرفتار رہیاس کو دیوار کیا خود پس دیوار رہی آنکھ لگ جائے تو پھر آنکھ کہاں لگتی ھےمیں اگر سو بھی گئی خواب میں بیدار رہی تیرگی سے میرا سمجھو تہ نہیں ھو سکتامیں ہمیشہ سے چراغوں کی طرف دار رہی باغبانوں کو پشیمانی اسی بات کی ھےمیں خزاوں

عمر بھر جس کی محبت میں گرفتار رہی Read More »