MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فدا خالدی دہلوی عہد ساز شخصیت

تحریر حنیف عابد اردو زبان کی تاریخ میں جہاں شاعری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے وہیں زبان کی ترقی ، ترویج اورمقبولیت میں دبستانوں کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ سلاطین مغلیہ کے زمانے میں دہلی کوسیاسی اور حکومتی امور میں مرکزی حیثیت حاصل ہو نے کی وجہ سے دیگر معاملات میں

فدا خالدی دہلوی عہد ساز شخصیت Read More »

فدا خالدی کی رباعیات

اس قول میں تخریف نہیں ہو سکتیتخفیف ہو تخفیف نہیں ہو سکتی مجبور ہیں ہم لوح و قلم کے مالکہم سےتری تعریف نہیں ہو سکتی —- گھنگھورگھٹاوں کے نظارے ساقیبدمست ہواوں کے اشارے ساقی لا جام ! کہ پڑ رہی ہیں ایسی بوندیںجیسے کہ برس رہے ہوں تارے ساقی —— اک حسن کی تنویر سمجھتے

فدا خالدی کی رباعیات Read More »

ہر نخلِ چمن بچائیں گے ہم

ہر نخلِ چمن بچائیں گے ہماب ایک ہی دھن میں گائیں گے ہم بجھتی ہوئی شمعوں کی لووں کوخورشید صفت بنائیں گے ہم زرخیز ہوئی ہے خاکِ صحراگُن ابر وہوا کے گائیں گے ہم ہے باغ میں خوشگوار موسماب اور کہیں نہ جائیں گے ہم اے خاکِ وطن ملول مت ہوہر قرضِ وطن چکائیں گے

ہر نخلِ چمن بچائیں گے ہم Read More »

شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتے

شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتےہم حد سے کبھی بڑھ کے تمنا نہیں کرتے آنکھوں کے جزیروں میں بھی پانی نہیں ملتاپیاسے ہیں مگر کوئی تقاضا نہیں کرتے ہم راکھ ہوئے آتشِ خاموش میں جن کیحیرت ہے کہ وہ لوگ تماشا نہیں کرتے سیراب کرو دل کو اب اشکوں سے کہ بادلاس خشک زمیں

شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتے Read More »

میں کسی طور سُخن سازِ مثالی نہ بنا​

میں کسی طور سُخن سازِ مثالی نہ بنا​میرؔ و غالبؔ تو کُجا مومنؔ و حالیؔ نہ بنا​ ​آسمانوں کے مکیں میری زمینوں کو سجا​عرشِ بے مایہ پر فردوسِ خیالی نہ بنا​ ​پُر ہوا جام سے کچھ پہلے مرا کاسہ ٔ عمر​اے خدا شُکر ہے میں تیرا سوالی نہ بنا​ ​سیلِ گریہ سے نہ رُک پائے

میں کسی طور سُخن سازِ مثالی نہ بنا​ Read More »

جب پکارا ہے تجھے اپنی صدا آئی ہے

جب پکارا ہے تجھے اپنی صدا آئی ہےدل کی دیواروں سے لپٹی ہوئی تنہائی ہے ہے کوئی جوہری اشکوں کے نگینوں کا یہاںآنکھ بازار میں اک جنسِ گراں لائی ہے دل کی بستی میں تم آئے ہو تو کیا پاؤگےاب یہاں کوئی تماشا نہ تماشائی ہے دل بھی آباد ہے اک شہرِ خموشاں کی طرحہر

جب پکارا ہے تجھے اپنی صدا آئی ہے Read More »

پیکرانِ باغ وصحرا بے رِدا کیسے ہُوئے ​

پیکرانِ باغ وصحرا بے رِدا کیسے ہُوئے ​اس برس چپ، خوشنوایانِ صبا کیسے ہُوئے​ ​بستیوں کی بستیاں سیلابِ غم کی زد میں ہیں​حیلہ جُویانِ خِرَد بے دست وپا کیسے ہُوئے​ ​عمْر بھر کی دُوریاں ہیں قُربتوں کے موڑ پر​دل جو دھڑکے تھے کبھی، اب بے صدا کیسے ہوئے ​ ​کچھ تو کہہ موجِ صبا، میرے رفِیقانِ بہار ​خُشک

پیکرانِ باغ وصحرا بے رِدا کیسے ہُوئے ​ Read More »

شہر کا شہر لٹیرا ہے نظر میں رکھیے

شہر کا شہر لٹیرا ہے نظر میں رکھیےاب متاع غم جاناں بھی نہ گھر میں رکھیے کیا خبر کون سے رستے میں وہ رہزن مل جائےاپنا سایہ بھی نہ اب ساتھ سفر میں رکھیے اب کہیں سے نہ خریدار وفا آئے گااب کوئی جنس نہ بازار ہنر میں رکھیے سر دیوار وہ خورشید بکف آیا

شہر کا شہر لٹیرا ہے نظر میں رکھیے Read More »

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنےہمارے نام کو بدنام کر گئے اپنے اب ان کے نقش قدم راستوں میں کیا ڈھونڈیںپرائی منزلوں کو ہم سفر گئے اپنے بہار نے کیا منصوبہ حنا بندیمناؤ جشن کہ سب زخم بھر گئے اپنے پھر اس کے بعد فقط میں تھا میرا سایا تھاجو دشت دشت تھے ہمراہ

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے Read More »

مرے وجود کے دوزخ کو سرد کر دے گا

مرے وجود کے دوزخ کو سرد کر دے گااگر وہ ابر کرم ہے تو کھل کے برسے گا گلہ نہ کر کہ ہے آغاز شب ابھی پیارےڈھلے گی رات تو یہ درد اور چمکے گا قدح کی خیر سناؤ کہ اب کے بارش سنگاگر ہوئی تو طرب زار شب بھی ڈوبے گا یہ شہر کم

مرے وجود کے دوزخ کو سرد کر دے گا Read More »