MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں

لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیںہم ایک ملک خدا داد کے سوالی ہیں نہ ہم میں عقل و فراست نہ حکمت و تدبیرمگر ہے زعم کہ جمعیت مثالی ہیں منافقت نے لہو تن میں اتنا گرمایاکہ گفتگو میں ریا کاریاں سجا لی ہیں خود اپنے آپ سے کد اس قدر ہمیں ہے کہ

لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں Read More »

بہت ھی مُنفرِد سا یہ کمالِ رشتۀِ جاں ھے

Bohat Hi Munfarid Sa yah Kamal e Rishta e jaan Hay غزل بہت ھی مُنفرِد سا یہ کمالِ رشتۀِ جاں ھےخمارِ زندگی ھے اور وصالِ نشۀِ جاں ھے عجب ھے خیر و شر کا معرکہ اس دل کی دنیا میںبظاھر مطمئن لیکن وبالِ تشنۀِ جاں ھے میں جب سے گردشِ دوراں کے ھوں کامِل تصرُّف

بہت ھی مُنفرِد سا یہ کمالِ رشتۀِ جاں ھے Read More »

توجہ ان کی مجھ پر کم نہیں ہے

توجہ ان کی مجھ پر کم نہیں ہے اگر اب غم بھی ہے تو غم نہیں ہے خلش دل میں ابھی پیہم نہیں ہے ابھی کچھ اعتبارِ غم نہیں ہے اسی کا نام ہے شاید زمانہ جو کل تھا آج وہ عالم نہیں ہے تمہاری زلف ہے کیوں منتشر سی نظامِ دہر تو برہم نہیں

توجہ ان کی مجھ پر کم نہیں ہے Read More »

اظہارِ غمِ عشق نظر سے نہ زباں سے

اظہارِ غمِ عشق نظر سے نہ زباں سے رخ ہم بھی فسانے کا بدلتے ہیں یہاں سے دیکھا تو بہت نقش وہاں چھوڑ گئے ہم دامن کو بچاتے ہوے گزرے تھے جہاں سے یہ نور بھری رات تو خاموش فضائیں بیدار ہوئے ہم بھی کہاں خوابِ گراں سے اے بیخودئ شوق سہارا دے سہارا سوچا

اظہارِ غمِ عشق نظر سے نہ زباں سے Read More »

وابستہ ہو کے ایک ترے آستان سے ہم

وابستہ ہو کے ایک ترے آستان سے ہم آزاد ہو گئے ہیں غمِ دو جہاں سے ہم برسوں وہاں خزاں کا اثر تک نہ آ سکا ہنس کر گزر گئے ہیں جنوں میں جہاں سے ہم تقدیر کیا ہے اس کو سمجھنے سے فائدہ آخر قفس میں آ ہی گئے آشیاں سے ہم شاید جبیں

وابستہ ہو کے ایک ترے آستان سے ہم Read More »

ہزار رنگ بدلتا رہا زمانے کا

ہزار رنگ بدلتا رہا زمانے کا وہ میں کہ رخ نہ کیا میں نے آشیانے کا ابھی کچھ اور ارادہ ہے مسکرانے کا ابھی تو میری ہی جانب ہے رخ زمانے کا تمہارے نام سے منسوب کر رہا ہوں اسے بڑا حسین ہے عنواں مرے فسانے کا وہ داغِ دل ہو کہ زخمِ جگر قیامت

ہزار رنگ بدلتا رہا زمانے کا Read More »

کپڑے اپنے گھر کے ہیں

کپڑے اپنے گھر کے ہیںدھبے دنیا بھر کے ہیں باہر کوئی چیز نہیںسارے ڈر اندر کے ہیں کیسے کیسے دکھ دیکھےکیا کیا عیب ہنر کے ہیں مسجد تو بنوا لی تھیپتھر سب مندر کے ہیں دیکھیں کیسا دن نکلےبادل تو کچھ سرکے ہیں منزل پا لینے کے بعدجھگڑے راہگزر کے ہیں شہروں میں اب لوگ

کپڑے اپنے گھر کے ہیں Read More »

ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیں

ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیںہم زمانے سے توقع ہی کہاں رکھتے ہیں ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہےلوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں کچھ ہمارے بھی ستارے ترے دامن پہ رہیںہم بھی کچھ خواب جہان گزراں رکھتے ہیں چند آنسو ہیں کہ ہستی کی چمک ہے جن سےکچھ

ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیں Read More »

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیںحقیقت کی ضد اعتقادات ہیں ترقی کے رستے نہ کھلتے مگریہ سب دوستوں کی عنایات ہیں یہ زنجیر بھی اتنی محکم نہیںحقائق بھی ذاتی خیالات ہیں کوئی شخص خوبی سے خالی نہیںہر اک شخص کے اپنے حالات ہیں فلک کو بھی دیکھیں گے لیکن ابھیزمیں پر بھی کتنے مقامات

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں Read More »

اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے

اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھےاک شخص تھا کہ مل نہ سکا عمر بھر مجھے شعلوں کی گفتگو میں صبا کے خرام میںآواز دے رہا ہے کوئی ہم سفر مجھے شاید انہیں کا عجز مرے کام آ گیاجن دوستوں نے چھوڑ دیا وقت پر مجھے شب کو تو ایک قافلۂ گل تھا ساتھ

اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے Read More »