MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب پکارا ہے تجھے اپنی صدا آئی ہے

جب پکارا ہے تجھے اپنی صدا آئی ہے
دل کی دیواروں سے لپٹی ہوئی تنہائی ہے

ہے کوئی جوہری اشکوں کے نگینوں کا یہاں
آنکھ بازار میں اک جنسِ گراں لائی ہے

دل کی بستی میں تم آئے ہو تو کیا پاؤگے
اب یہاں کوئی تماشا نہ تماشائی ہے

دل بھی آباد ہے اک شہرِ خموشاں کی طرح
ہر طرف لوگ مگر عالمِ تنہائی ہے

جس کی آنکھوں سے برستی ہیں لہو کی بوندیں
یہ وہی محسنِؔ آشفتہ و سودائی ہے

(محسنؔ احسان)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم