MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دست و پا میں کہاں زنجیر کی گنجا ئش ہے

دست و پا میں کہاں زنجیر کی گنجا ئش ہےکیا ابھی اور بھی تعزیر کی گنجائش ہے جان بخشی کی ذرا سی بھی نہیں گنجائشہاں مگر تھوڑی سے تاخیر کی گنجائش ہے عشق میرا بھی نہیں قیس ترے عشق سے کماس میں بس تھوڑی سی تشہیر کی گنجائش ہے بات سیدھی ہے مجھے جینا نہیں

دست و پا میں کہاں زنجیر کی گنجا ئش ہے Read More »

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے چلے جانا ہے

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے چلے جانا ہےجس پہ چلتے ہیں اسی خاک تلے جانا ہے اک ذرا نزع کی تکلیف کا چکھنا ہے مزااک یہ خواہش کہ تجھے مل کے گلے جانا ہے موت لے جائے گی مجھ کو جھپٹ کرتجھ سےزندگی! تونے فقط ہاتھ ملے جانا ہے جانِ من! میں ہوں ترے صحن

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے چلے جانا ہے Read More »

سپولے جوگیوں نے اس لیے کِیلے نہیں ہوں گے

سپولے جوگیوں نے اس لیے کِیلے نہیں ہوں گےسمجھتے تھے کہ یہ حشرات زہریلے نہیں ہوں گے جو چبھتے ہی نہ ہوں ان کو بھی کوئی خار کہتا ہےاگر ہیں خار تو کیا خار نوکیلے نہیں ہوں گے ہم ایسے لوگ جو پل پل غموں کا زہر پیتے ہیںتو جانِ من ! ہمارے جسم کیا

سپولے جوگیوں نے اس لیے کِیلے نہیں ہوں گے Read More »

چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے

چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلےجو میرے جسم میں رہتا ہے میری جان سے پہلے کوئی خاموش ہوجائے تو اس کی خامشی سے ڈرسمندر چپ ہی رہتا ہے کسی طوفان سے پہلے مجھے جی بھر کے اپنی موت کو تو دیکھ لینے دونکل جائے نہ میری جاں مرے ارمان سے پہلے

چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے Read More »

تم کو تو صرف سیہ رات سے ڈر لگتا ہے

تم کو تو صرف سیہ رات سے ڈر لگتا ہےایک میں ہوں جسے ہر بات سے ڈر لگتا ہے شہر میں جاتے ہوئے ڈرتا ہوں اب تک ایسےجیسے ویرانے میں جنات سے ڈر لگتا ہے سانس کی آنچ سے مجھ کو گلِ حکمت کر دےکوزہ گر! اب مجھے برسات سے ڈر لگتا ہے بات ادھوری

تم کو تو صرف سیہ رات سے ڈر لگتا ہے Read More »

دو قدم چاند مرے ساتھ جو چل پڑتا ہے

دو قدم چاند مرے ساتھ جو چل پڑتا ہےشہر کا شہر تعاقب میں نکل پڑتا ہے میں سرِ آب جلاتا ہوں فقط ایک چراغدوسرا آپ ہی تالاب میں جل پڑتا ہے پیاس جب توڑتی ہے سر پہ مصیبت کے پہاڑکوئی چشمہ میری آنکھوں سے ابل پڑتا ہے بے خیالی میں اسی راہ پہ چل پڑتا

دو قدم چاند مرے ساتھ جو چل پڑتا ہے Read More »

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میںبس تری مان کے میں کود پڑا پانی میں یوں ہوئے تھے مرے اوسان خطا پانی میںسانس لینا بھی مجھے بھول گیا پانی میں اس قدر شور کی عادی نہ تھی آبی دنیاجس قدر زور سے میں جا کے گرا پانی میں جھیل پہ رات گئے

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں Read More »

اہتمام

جمالے!او جمالے!وہ بھوری بھینسجس نے مولوی کو سینگ مارا تھاگلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے!بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دےپھاوڑے سے سارا گوھیا میل کےکھیتوں میں لے جا نذیراں! جا ذراویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دےسُن!یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جاجلا لینا، غلامے یار!یہ…….. کیکر کے کنڈے……..چھوڑ…….. میں

اہتمام Read More »

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندرجیسے گزرے خاموشی سے وقت گزار سمندر ایسے دیکھا کرتا تھا میں اس کی جھیل سی آنکھیںجیسے کوئی دیکھ رہا ہو پہلی بار سمندر آج نہ جانے دوں گا تجھ کو اپنی آنکھ سے باہردھاڑیں مار سمندر چاہے ٹھاٹھیں مار سمندر صحرا پار کیا ہے میں نے

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر Read More »

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گامیں کم شناس مروت ميں مارا جاؤں گا میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میںپھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نےمیں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگامیں دوستوں

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا Read More »