MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیں

لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیںبات کرنے کو بھی تصویر کا لہجہ چاہیں تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنیدرمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تنہا چاہیں ظاہری آنکھ سے کیا دیکھ سکے گا کوئیاپنے باطن پہ بھی ہم فاش نہ ہونا چاہیں جسم پوشی کو ملے چادرِ افلاک ہمیںسر چھپانے کے

لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیں Read More »

مَانا کہ مُشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں مَیں

مَانا کہ مُشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں مَیںلیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں مَیں انسان ہوں، دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رَکھیُوں ڈُوب کر نہ دیکھ سَمندر نہیں ہوں مَیں چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کیآئینہ ہاتھ میں ہے سِکندر نہیں ہوں مَیں غالؔب تِری زمین میں لکھّی

مَانا کہ مُشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں مَیں Read More »

شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا

شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتاسچ منہ سے نکل جاتا ہے، کوشش نہيں کرتا گرتی ہوئی ديوار کا ہمدرد ہوں، ليکنچڑھتے ہوئے سُورج کی پَرستش نہيں کرتا ماتھے کے پسينے کی مہک آئے نہ جِس سےوہ خون ميرے جسم ميں گردش نہيں کرتا ہمدردیءِ احباب سے ڈرتا ہوں مظفؔرميں زخم تو رکھتا ہوں، نمائش

شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا Read More »

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتادیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا دعووں کے ترازو میں تو عظمت نہیں تُلتیفیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتےتلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتےاپنی ہی کمائی کو

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا Read More »

کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں

کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میںکہ چند سانس بھی آئے نہ اپنے حصے میں وہ ایک ایسے سمندر کے روپ میں آیاکہ عمر کٹ گئی جس کو عبور کرنے میں مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہیہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں ملی تو ہے مری تنہائیوں کو

کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں Read More »

ﺍﻭﯾﺴﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ، ﺑﻼﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ

ﺍﻭﯾﺴﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ، ﺑﻼﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﻃﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﻮﺍﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ﯾﮧ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯﺟﻨﯿﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﮯ ﻣﻞ، ﻏِﺰﺍﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ﺻﺤﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻝ ، ﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﻟﮯﺣﻀﻮﺭ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﺍِﻥ ﻣﻮﺍﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﮍﮪ ، ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ،

ﺍﻭﯾﺴﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ، ﺑﻼﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ Read More »

ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے

ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہےزمانہ ہم جسے کہتے ہیں نام تیرا ہے درائے اول و آخر ہے تو مرے مولٰینہ ابتدا نہ کوئی اختتام تیرا ہے تری ثنا میں ہے مصروف بےزبانی بھیسکوتِ وقت کے لب پہ کلام تیرا ہے شعور نے سفرِ لاشعور کر دیکھاتمام لفظ ہیں اسکے ’دوام‘ تیرا ہے

ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے Read More »

نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا

نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُواسچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیںآئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیںقانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا جو آج تک کیا گیا احسان کی طرحاس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا اُس

نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا Read More »

ساتھ ہر چند ہمسفر رکھنا

ساتھ ہر چند ہمسفر رکھناسامنے اپنی رہ گزر رکھنا زندگی خواب بن کے رہ جائےزانوئے شب پہ یوں نہ سر رکھنا برف کی ناؤ میں تو بیٹھے ہوآگ سی ذہن میں مگر رکھنا خاک پر بھی اگر بناؤ محلسنگِ بنیاد عرش پر رکھنا بن گئے خول اب تو چہرے بھیاحتیاطِ دل و نظر رکھنا لذّتیں

ساتھ ہر چند ہمسفر رکھنا Read More »

خاموشی کا جنگل تھا تنہائی تھی

خاموشی کا جنگل تھا تنہائی تھیمیں نے اپنی بستی دور بسائی تھی کانوں نے آواز کے بالے پہنے تھےسنّاٹوں نے ایسی دھوم مچائی تھی برف رتوں میں بے حس ہو کر مر جاتاخود کو آگ لگا کر جان بچائی تھی اپنی دنیا آپ بنائی ہے میں نےتیرے آگے دنیا بنی بنائی تھی تم کیا سمجھے

خاموشی کا جنگل تھا تنہائی تھی Read More »