ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے
ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہےیہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے کئی باتیں محبت سب کو بنیادی بتاتی ہےجو پردادی بتاتی تھی وہی دادی بتاتی ہے جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیںوہاں ایک گھونسلا چڑیوں کا تھا، دادی بتاتی ہے ابھی تک یہ
ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے Read More »