MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے

ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہےیہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے کئی باتیں محبت سب کو بنیادی بتاتی ہےجو پردادی بتاتی تھی وہی دادی بتاتی ہے جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیںوہاں ایک گھونسلا چڑیوں کا تھا، دادی بتاتی ہے ابھی تک یہ

ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے Read More »

میری خواہش کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں

میری خواہش کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤںماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں کم سے بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطرایسی مٹی میں ملانا کہ کھلونا ہو جاؤں سوچتا ہوں تو چھلک اٹھتی ہیں میری آنکھیںتیرے بارے میں نہ سوچوں تو اکیلا ہو جاؤں چارہ گر تیری مہارت پہ

میری خواہش کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں Read More »

بھروسہ مت کرو سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

بھروسہ مت کرو سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہےچھتیں محفوظ رہتی ہیں حویلی ٹوٹ جاتی ہے محبت بھی عجب شے ہے وہ جب پردیس میں روئےتو فوراً ہاتھ کی ایک آدھ چوڑی ٹوٹ جاتی ہے کہیں کوئی کلائی ایک چوڑی کو ترستی ہےکہیں کنگن کے جھٹکے سے کلائی ٹوٹ جاتی ہے لڑکپن میں کئے وعدے

بھروسہ مت کرو سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے Read More »

کل اک امرود والے سے یہ کہنا آ گیا ہم کو

کل اک امرود والے سے یہ کہنا آ گیا ہم کوجہاں سے آئے ہیں ہم اس کی بغیا چھوڑ آئے ہیں وہ حیرت سے ہمیں  تکتا رہا کچھ دیر پھر بولاوہ سنگم کا علاقہ چھٹ گیا یا چھوڑ آئے ہیں ابھی ہم سوچ میں گم تھے کہ اس سے کیا کہا جائےہمارے آنسوؤں نے راز

کل اک امرود والے سے یہ کہنا آ گیا ہم کو Read More »

جرأت سے ہر نتیجے کی پروا کیے بغیر 

جرأت سے ہر نتیجے کی پروا کیے بغیر دربار چھوڑ آیا ہوں سجدہ کیے بغیر یہ شہرِ احتجاج ہے خاموش مت رہوحق بھی نہیں ملے گا تقاضہ کیے بغیر پھر ایک امتحاں سے گزرنا ہے عشق کو روتا ہے وہ بھی آنکھ کو میلا کیے بغیر پتے ہوا کا جسم چھپاتے رہے مگر مانی نہیں ہوا بھی برہنہ

جرأت سے ہر نتیجے کی پروا کیے بغیر  Read More »

مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں

مہاجر نامہ مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیںتمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہےکہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میںپرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں

مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں Read More »

ایک ہی مسئلہ تا عمر مرا حل نہ ہوا

ایک ہی مسئلہ تا عمر مرا حل نہ ہوانیند پوری نہ ہوئی خواب مکمل نہ ہوا شہر دل کا جو مکیں ہے وہ بچھڑتا کب ہےجس قدر دور گیا آنکھ سے اوجھل نہ ہوا آج بھی دل کی زمیں خشک رہی تشنہ رہیآج بھی مائل الطاف وہ بادل نہ ہوا روشنی چھن کے ترے رخ

ایک ہی مسئلہ تا عمر مرا حل نہ ہوا Read More »

اتنی طویل عمر کو جلدی سے کاٹنا

اتنی طویل عمر کو جلدی سے کاٹناجیسے دوا کی پنّی کو قینچی سے کاٹنا چھتّے سے چھیڑ چھاڑ کی عادت مجھے بھی ہےسیکھا ہے اُس نے شہد کی مکھی سے کاٹنا رہتا ہے دن میں رات کے ہونے کا انتظارپھر رات کو دواؤں کی گولی سے کاٹنا ممکن ہے میں دکھائ پڑوں ایک دن تمہیںیادوں

اتنی طویل عمر کو جلدی سے کاٹنا Read More »

چراغِ دل بجھانا چاہتا تھا

چراغِ دل بجھانا چاہتا تھاوہ مجھ کو بھول جانا چاہتا تھا مجھے وہ چھوڑ جانا چاہتا تھامگر کوئی بہانہ چاہتا تھا سفیدی آ گئی بالوں پہ اس کےوہ باعزت گھرانہ چاہتا تھا اسے نفرت تھی اپنے آپ سے بھیمگر اس کو زمانہ چاہتا تھا تمنا دل کی جانب بڑھ رہی تھیپرندہ آشیانہ چاہتا تھا بہت

چراغِ دل بجھانا چاہتا تھا Read More »

مٹّی میں مِلا دے، کہ جُدا ہو نہیں سکتا

مٹّی میں مِلا دے، کہ جُدا ہو نہیں سکتااب اِس سے زیادہ ،مَیں تِرا ہو نہیں سکتا دہلیز پہ رکھ دی ہیں کسی شخص نے آنکھیںروشن کبھی اِتنا تو دِیا ہو نہیں سکتا بس تو مِری آواز میں آواز مِلا دے !پھر دیکھ کہ اِس شہر میں کیا ہو نہیں سکتا اے موت ! مجھے

مٹّی میں مِلا دے، کہ جُدا ہو نہیں سکتا Read More »