MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئیمیں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی یہاں سے جانے والا لوٹ کر کوئی نہیں آیامیں روتا رہ گیا لیکن نہ واپس جا کے ماں آئی ادھورے راستے سے لوٹنا اچھا نہیں ہوتابلانے کے لیے دنیا بھی آئی تو کہاں آئی

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی Read More »

اس بے طلوع شب میں کیا طالع آزمائی

اس بے طلوع شب میں کیا طالع آزمائیخورشید لاکھ ابھرے لیکن سحر نہ آئی کب تک فریب جادہ کب تک غبار منزلاے درد ناتمامی اے رنج نارسائی ہر گل کا چاک سینہ گلزار آفرینااب کے عجب خزینہ تیری بہار لائی ساحل پہ خیمہ کش ہیں آسودگان ساحلطوفان کر رہے ہیں کشتی کی نا خدائی ہر

اس بے طلوع شب میں کیا طالع آزمائی Read More »

اصنام مال و زر کی پرستش سکھا گئی

اصنام مال و زر کی پرستش سکھا گئیدنیا مجھے بھی عابد دنیا بنا گئی وہ سنگ دل مزار وفا پر بنام عشقآئی تو میرے نام کا پتھر لگا گئی میرے لیے ہزار تبسم تھی وہ بہارجو آنسوؤں کی راہ پہ مجھ کو لگا گئی گوہر فروش شبنمی پلکوں کی چھاؤں میںکیا آگ تھی جو روح

اصنام مال و زر کی پرستش سکھا گئی Read More »

برنگ شعر گرے اور بار بار گرے

برنگ شعر گرے اور بار بار گرےہمارے ذہن پہ کرنوں کے آبشار گرے غموں کی راہ میں ثابت قدم ہیں دیوانےبساط عیش پہ کتنے نشاط کار گرے چمن کھلا تو نئی نکہتوں کے آنچل پرشگفت گل سے ترے عکس بے شمار گرے زمین چاند کا ٹکڑا ہے جس کی ظلمت پرکئی اجالے ہر اک شب

برنگ شعر گرے اور بار بار گرے Read More »

میں اہل دہر کی نظروں میں بے عقیدہ سہی

میں اہل دہر کی نظروں میں بے عقیدہ سہیالٹ نقاب کہ نادیدہ آج دیدہ سہی ہوائے کوچۂ محبوب کا ہوں دامن گیرہزار دامن محبوب نا رسیدہ سہی تصورات ترے حسن سے ہیں وابستہتعلقات تری ذات سے کشیدہ سہی مری بلند خیالی میں کیا کمی آئیمیں عرش زاد نہیں خاک آفریدہ سہی مجھے نہیں نہ سہی

میں اہل دہر کی نظروں میں بے عقیدہ سہی Read More »

میرے لیے وجود کا دریا سراب تھا

میرے لیے وجود کا دریا سراب تھاناکامیوں کے باب میں میں کامیاب تھا بخشے ہیں مجھ کو پھول محبت کی آگ نےمیرے لیے سکوں کا سبب اضطراب تھا میں نے سفید لفظ لکھے اور سچ لکھےمیری صداقتوں کا بیاں بے خضاب تھا عصیاں شمار تھے جو فرشتے وہ تھک گئےاک فرد صد گناہ سے میں

میرے لیے وجود کا دریا سراب تھا Read More »

عہدِ حاضِر پر، مِرے افکار کا سایہ رہا

عہدِ حاضِر پر، مِرے افکار کا سایہ رہا !بِجلیاں چمکیں بہت، میں ابر تھا چھایا رہا وہ خرابہ ہُوں، کہ جس پر روشنی رقصاں رہیوہ تہی دامن ہُوں جس کا فکر سرمایہ رہا کیا حرِیفانہ گزُاری ہے حیاتِ نغمہ کارمیں زمانے کا، زمانہ میرا ٹُھکرایا رہا ایک شب، اِک غیرتِ خورشید سے مِلنے کے بعداک

عہدِ حاضِر پر، مِرے افکار کا سایہ رہا Read More »

تم مرا دُکھ تروتازہ نہیں رہنے دیتے!

تم مرا دُکھ تروتازہ نہیں رہنے دیتے!دشت کو ابر تو پیاسا نہیں رہنے دیتے؟ واہمے نت نئی اشکال بنا لیتے ہیںورقِ دل کو بھی سادہ نہیں رہنے دیتے کتنے بے رحم ہیں یہ ہاتھ کہ فصلِ گل میںشجر سبز پہ پتا نہیں رہنے دیتے اب تو کچھ ایسے بچھڑ جاتے ہیں یارانِ کہنآنکھ میں عکسِ

تم مرا دُکھ تروتازہ نہیں رہنے دیتے! Read More »

نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں

نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوںمیں خواب خواب بھنور آئنوں کو تکتا ہوں نہ کوئی رنگ توقع‘ نہ نقشِ پائندہکسے بتاؤں کہ کن خواہشوں کا ڈھانچہ ہوں کسے دکھاؤں وہ آنکھیں جو جیت بھی نہ سکاکسے بتاؤں کہ کن آنسوؤں کا سپنا ہوں نہ تازگی ہی بدن میں نہ پُرسکون تھکنمیں شاخِ

نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں Read More »

سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوں

سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوںمیں خواہشوں کے طاس کی ٹیڑھی لکیر ہوں ہر لمحہ رُخ بدلتے مزاجوں کو کیا کہوںمیں آپ اپنے شہر میں اپنی نظیر ہوں جسموں کی تیز آنچ سے محفوظ رکھ مجھےاے شورشِ حیات! میں اب گوشہ گیر ہوں دستِ طلب دراز کروں کس کے سامنےآئے نہ جس پہ

سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوں Read More »