MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے

سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والو !ہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے مرے جنونِ پرستش سے تنگ آ گئے لوگسنا ہے بند کئے جا رہے ہیں بت خانے جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھاوہیں

سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے Read More »

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئیمیرا چھپر اُٹھا گیا کوئی لگ گیا اک مشین میں میں بھیشہر میں لے کے آ گیا کوئی میں کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میریاشتہار اِک لگا گیا کوئی یہ صدی دھوپ کو ترستی ہےجیسے سورج کو کھا گیا کوئی ایسی مہنگائی ہے کہ چہرہ بھیبیچ کے اپنا کھا گیا

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی Read More »

تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں

تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیںوہ اُتنے ہی روٹھے جاتے ہیں، ہم جتنا منائے جاتے ہیں وہ جا کے نہیں اب آنے والے، طور یہ پائے جاتے ہیںہنستے ہیں تسلّی دینے کو ، پر اشک بھی آئے جاتے ہیں صد شکر کہ فرقِ حُسن و عشق، اعجازِ وفا نے مٹا دیامیں جلوؤں

تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں Read More »

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا نئی زمیں، نیا آسماں بھی مل جائےنئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا وہ تیغ مل گئی جس سے ہوا ہے قتل مراکسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا کھڑا ہوں کب سے میں چہروں کے ایک جنگل میںتمہارے

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا Read More »

کیا بتائیں عشق پر کیا کیا ستم ڈھائے گئے

کیا بتائیں عشق پر کیا کیا ستم ڈھائے گئےچار سو پرچم گریبانوں کے لہرائے گئے​ کتنے نالے ہوگئے گم قہقہوں کی گونج میں​کتنے نغمے ہیں جو غم کی تال پر گائے گئے​ دوستوں کی دوستی نے بھی دئے ہیں کچھ فریب​کچھ حسین دھوکے مگر دانستہ بھی کھائے گئے​ جعفر و صادق کی غداری بھی زندہ

کیا بتائیں عشق پر کیا کیا ستم ڈھائے گئے Read More »

وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد

وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعددادِ سُخن ملی مجھے ترکِ سُخن کے بعد دِیوانہ وار چاند سے آگے نِکل گئےٹھہرا نہ دِل کہِیں بھی تری انجمن کے بعد ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپہنگامے جاگ اُٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اُس کی دُھوپقدرِ

وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد Read More »

ہر ایک پل سے جواں رس نچوڑتے جاؤ

ہر ایک پل سے جواں رس نچوڑتے جاؤدلوں سے درد کا ناطہ بھی جوڑتے جاؤ اگر سکوت ہے لازم ، زباں سے کچھ نہ کہومگر نظر سے دلوں کو جھنجوڑتے جاؤ وہ کیا شراب جو ہر ہوش چھین لے ہم سےبھرے ہیں جام تو ہر جام توڑتے جاؤ لہو کی بُوند بھی کانٹوں پہ کم

ہر ایک پل سے جواں رس نچوڑتے جاؤ Read More »

خانہ بدوش

خانہ بدوش شام کے سورج کی رنگت پڑچکی ہے زرد سیاُڑ رہی ہے اک طرف میدان میں کچھ گرد سیبجھ چکی ہے آسماں پر ڈوبتے سورج کی آگہر بگولا گا رہا ہے خانہ ویرانی کا راگدشت کے خاموش کچے راستوں کے درمیاںقافلہ خانہ بدوشوں کا ہے اک جانب رواںاُن کو کیا معلوم اس صحرا نوردی

خانہ بدوش Read More »

مسافر

مسافرمسافر کہیں راہ مت بھول جاناجوانی کی وادی کے خنداں نظارےمحبت کے گردوں کے رقصاں ستارےتجھے راستے میں کریں گے اشارےکہ آ ہم سکھائیں تجھے دل لگانامسافر کہیں راہ مت بھول جانا حسینوں پہ بجلی گراتا گزر جاتمنّا کے شعلے بجھاتا گزر جانظر سے نظر یوں ملاتا گزر جاتجھے جیسے آتا نہیں مسکرانامسافر کہیں راہ

مسافر Read More »

یہ زندگی مجھے کھلتی ہوئی کتاب لگے

یہ زندگی مجھے کھلتی ہوئی کتاب لگےورق ورق کوئی تاریخِ انقلاب لگے لہو میں کاش پگھل جائے روشنی بن کریہ ایک داغ جو سینے میں آفتاب لگے ادائے ناز سے اس درجہ انحراف بھی کیاترا نظر نہ چرانا مجھے خراب لگے ملا ہوں آج مگر اس میں کوئی جھوٹ نہیںکہ تُو مجھے کوئی دیکھا ہوا

یہ زندگی مجھے کھلتی ہوئی کتاب لگے Read More »