سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے
سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والو !ہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے مرے جنونِ پرستش سے تنگ آ گئے لوگسنا ہے بند کئے جا رہے ہیں بت خانے جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھاوہیں
سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے Read More »