MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر سمت لطافت ہی لطافت سی لگے ہے

ہر سمت لطافت ہی لطافت سی لگے ہےتُو ہے تو یہ دنیا مجھے جنت سی لگے ہے کیا قہر ہے اے دوست ترے قرب کا جادوہر ایک ہوس آج محبت سی لگے ہے ہر بار تو اس طرح ڈھلکتا نہیں آنچلکچھ اس میں مجھے تیری شرارت سی لگے ہے کیا تجھ کو ضرورت کسی انداز

ہر سمت لطافت ہی لطافت سی لگے ہے Read More »

عشق خوننابہ فشانی جو نہیں تو کیا ہے

عشق خوننابہ فشانی جو نہیں تو کیا ہےدل کی تجویز دوانی جو نہیں تو کیا ہے کیوں نہ اے دوست کلیجے سے لگائے رکھوںداغِ دل اس کی نشانی جو نہیں تو کیا ہے وہ بھی کیا موجِ لہو ہے کہ جو تھم تھم کے بہےگرم چشموں کی روانی جو نہیں تو کیا ہے چھائی چھائی

عشق خوننابہ فشانی جو نہیں تو کیا ہے Read More »

ہو گیا شاید مرا ذوقِ تجسس کامیاب

ہو گیا شاید مرا ذوقِ تجسس کامیابآج خود مجھ پر پڑی میری نکاہِ انتخاب جانے کس لمحہ دمک اٗٹھے فضائے کائناتکوئی چٹکی میں لئے ہے دیر سے طرفِ نقاب منتظر ہیں آج بھی تیری نگاہِ شوق کےجانے کتنے ماہ و انجم جانے کتنے آفتاب تو نے دیکھا بھی نہیں اور دل دھڑکنے بھی لگاجیسے بن

ہو گیا شاید مرا ذوقِ تجسس کامیاب Read More »

اک زخمِ تمنا اور سہی

اک زخمِ تمنا اور سہی یہ زخم ہی اپنا حصّہ ہیں ، ان زخموں پر شرمائیں کیا کیوں کہتے ہوئے شرمائیں ہم دنیا نے ہمیں ٹھکرایا ہےہر سانس میں ایسا لگتا ہے شعلہ سا کوئی لہرایا ہےیہ سُرخ جو رہتی ہیں آنکھیں زخموں نے لہو چھلکایا ہےدو گھاؤ ہوں جیسے چہرے پرخود دیکھ لو ہم

اک زخمِ تمنا اور سہی Read More »

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیاجتنے بھی بد نام ہوئے ہم اتنا اس نے پیار کیا اس سے تھوڑی آنکھ لڑا کر سوچا تھا بچ نکلیں گےاُس کی ترچھی نظروں نے تو دل پر سیدھا وار کیا پوچھتے کیا ہو پہلے پہلے کس سے ہم کو پیار ہواجس سے ہم

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا Read More »

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تلےجیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے انہیں گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گیکیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے کم نہیں نشے میں جاڑے

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے Read More »

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیںحصے میں اپنے صرف غبار آئے یہ نہیں کوئے غم حیات میں سب عمر کاٹ دیتھوڑا سا وقت واں بھی گزار آئے یہ نہیں خود عشق قرب جسم بھی ہے قرب‌‌ جاں کے ساتھہم دور ہی سے ان کو پکار آئے یہ نہیں آنکھوں میں دل کھلے

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں Read More »

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پراس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ مرے رکھ دیتی ہوچلتے چلتے رک جاتا ہوں ساری کی دوکانوں پر برکھا کی تو بات ہی چھوڑو چنچل ہے پروائی بھیجانے کس کا سبز دوپٹا پھینک گئی ہے

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر Read More »

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے جو آنسووں میں کبھی رات بھیگ جاتی ہےبہت قریب وہ آواز پا لگے ہے مجھے میں سو بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میںتمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے میں جب بھی اس کے خیالوں

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے Read More »

نانی ماں نے جان بچائی

بچوں کے لیے کہانی موجِ سخن ڈیسک بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں ایک بوڑھی عورت اور اس کی عقل مند، شوخ اور چنچل نواسی ایک ساتھ رہتے تھے۔بوڑھی عورت کو سب گاؤں والے نانی ماں کہتے تھے اور اس کی نواسی کو شیتل کہہ کر پکارتے تھے۔ نانی ماں کی بیٹی

نانی ماں نے جان بچائی Read More »