MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگےپہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھاآپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے جانے لگے ہم نے

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے Read More »

جب وہ کم عمر ہی تھا

جب وہ کم عمر ہی تھااس نے یہ جان لیا تھا کہ اگر جِینا ہےبڑی چالاکی سے جِینا ہو گاآنکھ کی آخری حد تک ہے بساطِ ہستیاور وہ معمولی سا اِک مُہرہ ہےایک اک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہو گابازی آسان نہیں تھی اس کیدُور تک چاروں طرف پھیلے تھےمُہرےجَلّادنہایت سَفّاکسخت بے رحمبہت ہی

جب وہ کم عمر ہی تھا Read More »

کسی کا حکم ہے

کسی کا حکم ہےساری ہوائیںہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیںکہ ان کی سمت کیا ہے؟ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہوگاچلیں گی جب تو کیا رفتار ہوگیکہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہےہماری ریت کی سب یہ فصیلیںیہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیںحفاظت ان کی کرناہے ضروریاور آندھی ہے پرانی ان کی دشمنیہ سب ہی

کسی کا حکم ہے Read More »

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسےتو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسےجان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہےمجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہےوہ نظر چھپ

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے Read More »

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیےکیا سمائی تھی بھلا دیوانے کے سر دیکھیے پر سکوں لگتی ہے کتنی جھیل کے پانی پہ بطپیروں کی بے تابیاں پانی کے اندر دیکھیے چھوڑ کر جس کو گئے تھے آپ کوئی اور تھااب میں کوئی اور ہوں واپس تو آ کر دیکھیے ذہن انسانی ادھر

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے Read More »

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیازندگی دھوپ تم گھنا سایہ آج پھر دل نے اک تمنا کیآج پھر دل کو ہم نے سمجھایا تم چلے جاؤ گے تو سوچیں گےہم نے کیا کھویا ہم نے کیا پایا ہم جسے گنگنا نہیں سکتےوقت نے ایسا گیت کیوں گایا جاوید اختر

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا Read More »

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمیں نیا آسماں نہیں ملتا نئی زمیں، نیا آسماں بھی مل جائےنئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا وہ تیغ مل بھی گئی جس سے ہوا ہے قتل مراکسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا وہ میرا گاؤں ہے وہ میرے گاؤں کے چولہےکہ

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا Read More »

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاستارے زیرِ قدم رات آئے ہیں کیا کیا نشیبِ ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکےفرازِ دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیاتمام زخمِ جگر مسکرائے ہیں کیا کیا چھٹا جہاں سے اس آواز کا گھنا بادلوہیں

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا Read More »

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بارکچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواںویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھےغم ہے تو یہ

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں Read More »

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاکوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو ہو گاجسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا بانیِ جشنِ بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیںکس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا Read More »