MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھاہا ۔۔۔۔۔۔۔ (افسانہ)

تحریر سعادت حسین منٹو گوپال کی ران پر جب یہ بڑا پھوڑا نکلا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔آم خو ب ہوئے تھے۔ بازاروں میں ،گلیوں میں ،دکانداروں کے پاس پھیری والوں کے پاس، جدھر دیکھو، آم ہی آم نظر آ تے۔ لال، پیلے، سبز رنگا رنگ کے …. سبزی

پھاہا ۔۔۔۔۔۔۔ (افسانہ) Read More »

جی آیا صاحب (افسانہ)

تحریر سعادت حسین منٹو باورچی خانے کی دھندلی فضا میں بجلی کا ایک اندھا قمقمہ چراغِ گور کی مانند اپنی سرخ روشنی پھیلا رہا تھا۔ دھوئیں سے اٹی ہوئی دیواریں ہیبتناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ چبوترے پر بنی ہوئی انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں ابھر ابھر کر اپنی

جی آیا صاحب (افسانہ) Read More »

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کوزمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کوقدم اٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو جلایا آتشِ گُل نے چمن میں ہر تنکابہار پھونک گئی میرے آشیانے کو جمالِ بادہ و ساغر میں ہیں رُموز بہتمری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو قدم

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو Read More »

ترے ابرووں‌کی حسیں‌کماں ، نظر آ رہی ہے فلک نشاں

ترے ابرووں‌کی حسیں‌کماں ، نظر آ رہی ہے فلک نشاںنہ کرشمہ قوسِ قزح سے کم ، نہ کشش ہلال کے خم سے کم نہ ستا مجھے ، نہ رلا مجھے ، نہیں اور تابِ جفا مجھےکہ مری متاعِ شکیب ہے ، تری کائناتِ ستم سے کم یہ کرم ہے کم سرِ انجمن کہ پلائی اس

ترے ابرووں‌کی حسیں‌کماں ، نظر آ رہی ہے فلک نشاں Read More »

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانےاب اہلِ ہوش سے کہہ دو نہ آئیں سمجھانے بساطِ بزم الٹ کر کہاں گیا ساقیفضا خموش ، سُبُو چپ ، اداس پیمانے یہ کس کے غم نے دلوں کا قرار لُوٹ لیایہ کس کی یاد میں سر پھوڑتے ہیں دیوانے بھری بہار کا منظر ابھی نگاہ میں

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے Read More »

دل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہے

دل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہےاُن کی خوشبو ، کہاں سے آتی ہے حدِ اوہام سے گزر کے کھُلاخوش یقینی ،گُماں سے آتی ہے جراتِ بندگیِ ربِ جلیلبت شکن کی اذاں سے آتی ہے ایسی طاقت کہ جو نہ ہو تسخیردل میں عزمِ جواں سے آتی ہے اُن کی آواز میرے کانوں میںآ

دل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہے Read More »

مری نظر سے مکمل بہار گزری ہے

مری نظر سے مکمل بہار گزری ہےکہ مُسکراتی ہوئی شکلِ یار گزری ہے غم و الم کے ، اذیت کے ، کرب زاروں میںتڑپ تڑپ کے شبِ انتظار گزری ہے نفس نفس پہ چُبھن تھی قدم قدم پہ خلشتمام عمر سرِ نوکِ خار گزری ہے قفس میں حال نہ پوچھا صبا نے آ کے کبھیمرے

مری نظر سے مکمل بہار گزری ہے Read More »

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتااُسے دل کون کہہ سکتا ہے ، وہ دل ہو نہیں سکتا وہ بندہ ، جس کو عرفاں اپنا حاصل ہو نہیں سکتاکبھی خاصانِ حق کی صف میں شامل ہو نہیں سکتا زمیں و آسماں کا فرق ہے دونوں کی فطرت میںکوئی ذرّہ چمک کر ماہِ

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا Read More »

یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں

یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیںاک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں اک تری آرزو سے ہے آبادورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں عشق رسم و رواج کیا جانےیہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں وہ ہمارے ہم ان کے ہو جائیںبات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں جلنے والوں کو صرف

یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں Read More »

وہ تو بس وعدۂ دیدار سے بہلانا تھا

وہ تو بس وعدۂ دیدار سے بہلانا تھاہم کو آنا تھا یقیں اُن کو مُکر جانا تھا لاکھ ٹھُکرایا ہمیں تو نے مگر ہم نہ ٹلےتیرے قدموں سے الگ ہو کے کہاں جانا تھا جن سے نیکی کی توقع ہو وُہی نام دھریںایک یہ وقت بھی قسمت میں مری آنا تھا بے سبب ترکِ تعلق

وہ تو بس وعدۂ دیدار سے بہلانا تھا Read More »