MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسےآخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرویوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے ہر موج سے طوفانِ حوادث کی حدی خواںمشکل ہے نکلنا مری کشتی کا بھنور سے یہ حسن یہ شوخی

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے Read More »

کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہی

کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہینہ وہ ذوق دیدہ وری رہا ، نہ وہ شان جلوہ گری رہی جو خلش ہو دل کو سکوں ملے ، جو تپش ہو سوز دروں ملےوہ حیات اصل میں کچھ نہیں ، جو حیات غم سے بری رہی وہ خزاں کی گرم روی

کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہی Read More »

کتے تحریر بطرس بخاری طنز و مزاح

کتّے علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سر کھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔

کتے تحریر بطرس بخاری طنز و مزاح Read More »

ہوش والوں کو خبر کیا، بےخودی کیا چیز ہے

ہوش والوں کو خبر کیا، بےخودی کیا چیز ہےعشق کیجے، پھر سمجھیے، زندگی کیا چیز ہے ان سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیںآج جانا پیار کی جادوگری کیا چیز ہے کھلتی زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعریجھکتی آنکھوں نے بتایا، مےکشی کیا چیز ہے ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال

ہوش والوں کو خبر کیا، بےخودی کیا چیز ہے Read More »

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرامیں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں برسوں سےہر جگہ ڈھونڈتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا ایک سے ہو گئے موسموں کے چہرے سارےمیری آنکھوں سے کہیں کھو گیا منظر میرا مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھےجاگتا رہتا ہے

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا Read More »

ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا

ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملاجسے نگاہ ملی، اس کو انتظار ملا وہ کوئی راہ کا پتھر ہو یا حسیں منظرجہاں سے راستہ ٹھہرا وہیں مزار ملا کوئی پکار رہا تھا کھلی فضاؤں سےنظر اٹھائی تو چاروں طرف حصار ملا ہر ایک سانس نہ جانے تھی جستجو کس کیہر اک دیار مسافر کو بے

ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا Read More »

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھ ہوتا ہے یوں بھی راستہ، کھلتا نہیں کہیںجنگل سا پھیل جاتا ہے کھویا ہوا سا کچھ ساحل کی گیلی ریت پہ بچوں کے کھیل ساہر لمحہ مجھ میں بنتا بکھرتا ہوا سا کچھ فرصت نے آج گھر

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ Read More »

دن سلیقے سے اگا، رات ٹھکانے سے رہی

دن سلیقے سے اگا، رات ٹھکانے سے رہیدوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیںزندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی اس اندھیرے میں تو ٹھوکر ہی اجالا دے گیرات جنگل میں کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کودور کی روشنی

دن سلیقے سے اگا، رات ٹھکانے سے رہی Read More »

تیرا ہجر میرا نصیب ہے، تیرا غم ہی میری حیات ہے

تیرا ہجر میرا نصیب ہے، تیرا غم ہی میری حیات ہےمجھے تیری دوری کا غم ہو کیوں، تو کہیں بھی ہو، میرے ساتھ ہے میرے واسطے تیرے نام پر کوئی حرف آئے، نہیں نہیںمجھے خوف ِ دنیا نہیں مگر میرے رو برو تیری ذات ہے تیرا وصل، اے میری دلربا، نہیں میری قسمت تو کیا

تیرا ہجر میرا نصیب ہے، تیرا غم ہی میری حیات ہے Read More »

اُس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے

اُس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہےجو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا،یہ غم باقی ہے اب نہ طہ چھت ہے نہ وہ زینہ ،نہ انگور کی بَیلصرف ایک اس کو بھُلانے کی قسم باقی ہے میں نے پُوچھا تھا سبب پیڑ گر جانے کااُٹھ کے مالی نے کہا اُس کی قلم باقی

اُس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے Read More »