دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسےآخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرویوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے ہر موج سے طوفانِ حوادث کی حدی خواںمشکل ہے نکلنا مری کشتی کا بھنور سے یہ حسن یہ شوخی
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے Read More »