چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماں
چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں کوئی آواز سی ہے مرثِیہ خواںشہر کا شہر بنا گورستاں ایک مخلوُق جو بستی ہے یہاںجس پہ اِنساں کا گُزرتا ہے گمُاں خود تو ساکت ہے مثالِ تصوِیرجنْبش غیر سے ہے رقص کناں کوئی چہرہ نہیں جُز زیر نقابنہ کوئی جسم ہے جُز
چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماں Read More »