MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماں

چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں کوئی آواز سی ہے مرثِیہ خواںشہر کا شہر بنا گورستاں ایک مخلوُق جو بستی ہے یہاںجس پہ اِنساں کا گُزرتا ہے گمُاں خود تو ساکت ہے مثالِ تصوِیرجنْبش غیر سے ہے رقص کناں کوئی چہرہ نہیں جُز زیر نقابنہ کوئی جسم ہے جُز

چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماں Read More »

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کمشائد اسی لئے ہے گلہ کم بہت ہی کم تھے دوسرے بھی تیری محبت کے آس پاسدل کو مگر سکون ملا، کم، بہت ہی کم جلتے سنا چراغ سے دامن ہزار باردامن سے کب چراغ جلا، کم بہت ہی کم یوں مت کہو، خزاں کہ

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم Read More »

حسرتِ آب و گِل دوبارہ نہیں

حسرتِ آب و گِل دوبارہ نہیںدیکھ، دنیا نہیں، ہمیشہ نہیں سادہ کاری، کئ پرت، کئ رنگسادگی اک ادائے سادہ نہیں حالِ دل اتنے پیار سے مت پوچھحال آئندہ ہے، گزشتہ نہیں میں کہیں اور کس طرح جاؤںتو کسی اور کے علاوہ نہیں اے ستارو! کسے پکارتے ہواس خرابے میں کوئی زندہ نہیں کبھی ہر سانس

حسرتِ آب و گِل دوبارہ نہیں Read More »

جنوں سے کھیلتے ہیں، آگہی سے کھیلتے ہیں

جنوں سے کھیلتے ہیں، آگہی سے کھیلتے ہیںیہاں تو اہلِ سخن آدمی سے کھیلتے ہیں تمام عمر یہ افسردگانِ محفلِ گُلکلی کو چھیڑتے ہیں، بے کلی سے کھیلتے ہیں جو کھیل جانتے ہیں اُن کے اور ہیں اندازبڑے سکون، بڑی سادگی سے کھیلتے ہیں خزاں کبھی تو لکھو ایک اس طرح کی غزلکہ جیسے راہ

جنوں سے کھیلتے ہیں، آگہی سے کھیلتے ہیں Read More »

سکوں پیام اداؤں کو مہرباں دیکھو

سکوں پیام اداؤں کو مہرباں دیکھوسمجھ گئے تو کوئی اور آستاں دیکھو وہی قیامتِ احساس ہے، جدھر جاؤوہی حکایتِ لبریز ہے، جہاں دیکھو یہ زندگی ہے تمہاری، اگر خرید سکونہیں تو خیر، وہی راہِ رفتگاں دیکھو یہ رنگ جن میں زمانوں کی آگ لرزاں ہےیہ خوابکارئ جذباتِ رائیگاں دیکھو یہ نرم خواب سفینے، جزیرہ ہائے

سکوں پیام اداؤں کو مہرباں دیکھو Read More »

محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا

محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتاکچھ ایسی بات ہے، انکار بھی کرتے نہیں بنتا بھنور سے جی بھی گھبراتا ہے، لیکن کیا کیا جائےطوافِ موجِ کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرےیہی دل جس کو دنیا دار بھی کرتے بھی نہیں بنتا جلاتی ہے

محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا Read More »

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیںایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں زیر لب آہ بھی محال ہوئیدرد اتنا نہیں کہ تم سے کہیں تم زلیخا نہیں کہ ہم سے کہوہم مسیحا نہیں کہ تم سے کہیں سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیںکوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں کس سے پوچھیں کہ

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں Read More »

جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیںیہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں نگار مے کدہ سب سے زیادہ قابل رحموہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں تمام عمر یہ افسردگان محفل گلکلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھاکسی سے کھیل چکے

جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں Read More »

جی چاہتا ہے کس نے کہا مت خریدیئے

جی چاہتا ہے کس نے کہا مت خریدیئےدولت سے حسن حسن سے دولت خریدیئے کچھ لوگ جی رہے ہیں شرافت کو بیچ کرتھوڑی بہت انھیں سے شرافت خریدیئے پھیلا ہے کاروبارِ مروت سو آپ بھیسب کی طرح کسی کی ضرورت خریدیئے اپنی پسند اپنے مقدر کی بات ہےصبحِ ازل سے شامِ قیامت خریدیئے گہرائیوں کی

جی چاہتا ہے کس نے کہا مت خریدیئے Read More »

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھےگھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے خارِ چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھےشاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے سرد ہواوں سے تو تھے ساحل کی ریت کے یارانےلو کے تھپیڑے سہنے والے صحراوں کے ٹیلے تھے

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے Read More »