MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تنہا تنہا ہم رو لیں گے، محفل محفل گائیں گے

تنہا تنہا ہم رو لیں گے، محفل محفل گائیں گےجب تک آنسو ساتھ رہیں گے تب تک گیت سنائیں گے تم جو سوچو، وہ تم جانو، ہم تو اپنی کہتے ہیںدیر نہ کرنا گھر جانے میں ورنہ گھر کھو جائیں گے بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دوچار کتابیں پڑھ کر وہ بھی

تنہا تنہا ہم رو لیں گے، محفل محفل گائیں گے Read More »

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائےگھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیںان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیںکسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے خودکشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میںاور کچھ دن

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے Read More »

نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاند

نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاندکن آنکھوں سے دیکھا جاۓ چنچل چہرے جیسا چاند مُنّی کی بھولی باتوں سی چھِٹکیں تاروں کی کلیاںپپّو کی معصوم شرارت سا چھپ چھپ کر ابھرا چاند مجھ سے پوچھو کیسے کاٹی میں نے پربت جیسی راتتم نے تو گودی میں لے کر گھنٹوں چوما ہوگا

نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاند Read More »

سفر مِیں دھوپ تو ہوگی، جو چَل سکو تو چَلو

سفر مِیں دھوپ تو ہوگی، جو چَل سکو تو چَلوسبھی ہی بھیڑ مِیں تُم بھی نِکل سکو تو چَلو کِسی کے واسطے رَاہیں کہاں بَدلتی ہیںتُم اَپنے آپ کو خُود ہی بَدل سکو تو چَلو یہاں کِسی کو کو ِئی رَاستہ نہیں دِیتامُجھے گِرا کے اگر تُم سَنبھل سکو تو چَلو یہی ہے زِندگی، کُچھ

سفر مِیں دھوپ تو ہوگی، جو چَل سکو تو چَلو Read More »

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیاہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیا چھوٹی تھی عمر اور فسانہ طویل تھاآغاز ہی لکھا گیا، انجام رہ گیا اُٹھ اُٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئےدہشت گروں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا اس کاقصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہوہ کامیاب ہو کے بھی ناکام

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا Read More »

چادر اور چار دیواری

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گییہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایتنہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوںغم و الم خلق کو دکھاؤںنہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤںنہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرمکہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر

چادر اور چار دیواری Read More »

‏کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے

‏کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گےجو ہے وہ بھی کھو سکتا ہےاس راہ میں رہزن ہیں اتنےکچھ اور یہاں ہو سکتا ہےکچھ اور تو اکثر ہوتا ہےپر تم جس لمحے میں زندہ ہویہ لمحہ تم سے زندہ ہےیہ وقت نہیں پھر آۓ گاتم اپنی کرنی کر گزروجو ہو گا دیکھا جاۓ

‏کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے Read More »

تم بالکل ہم جیسے نکلے

تم بالکل ہم جیسے نکلے ، اب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارے ، ارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گے ؟سارے الٹے کاج کرو گے ؟اپنا چمن تاراج کرو گے ؟تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا

تم بالکل ہم جیسے نکلے Read More »

خاکم بدہن

میں عازمِ مے خانہ تھی کل رات کو دیکھااک کوچۂ پر شور میں اصحابِ طریقتتھے دست و گریباںخاکم بدہن پیچ عماموں کے کھلے تھےفتووں کی وہ بوچھاڑ کہ طبقات تھے لرزاںدستانِ مبارک میں تھیں ریشانِ مبارکمُو ہائے مبارک تھے فضاؤں میں پریشاںکہتے تھے وہ باہم کہ حریفانِ سیہ رُوکفار ہیں بدخُوزندیق ہیں ملعون ہیں بنتے

خاکم بدہن Read More »