MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جاجدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل اُدھر لے جا تبسم سے حقیقی خال و خد ظاہر نہیں ہوتےتعارف پھول کا درپیش ہے تو چشمِ تر لے جا اندھیرے میں گیا وہ روشنی میں لوٹ آئے گادیا جو دل میں جلتا ہے اسی کو بام پر

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا Read More »

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہےاس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے اک خواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اس کو دیکھا تھااحساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتاہے پھر جسم کے منظر نامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اٹھیںاس خوف سے

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے Read More »

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتاوہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئےوہ ماہ رخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکاممجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا Read More »

پہلے اِک شخص میری ذات بنا

پہلے اِک شخص میری ذات بنااور پھر پوری کائنات بنا حُسن نے خود کہا مصور سےپاؤں پر میرے کوئی ہاتھ بنا پیاس کی سلطنت نہیں مٹتیلاکھ دجلے بنا، فرات بنا غم کا سورج وہ دے گیا تجھ کوچاہے اب دن بنا کہ رات بنا شعر اِک مشغلہ تھا قاصرؔ کااب یہی مقصدِ حیات بنا غلام

پہلے اِک شخص میری ذات بنا Read More »

دعا اور بد دعا کے درمیاں

دعا اور بد دعا کے درمیاں جب رابطے کا پل نہیں ٹوٹاتو میں کس طرح پہنچا بد دعائیں دینے والوں میںمیں ان کی ہمنوائی پر ہوا مامورہم آواز ہوں ان کاکہ جن کے نامئہ اعمال میں ان بد دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہیںان کے کہے پر آج تک بادل نہین برسےکبھی موسم نہیں بدلےکوئی

دعا اور بد دعا کے درمیاں Read More »

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلااور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا تصویر نہیں بدلی ، شیشہ بھی نہیں بدلانظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوقِ سفر ایسا اک عمر سے یاروں نےمنزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بیکار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کااس شہر

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا Read More »

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھیراہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلےپہلے نشاں زد کر لینا تھا جتنی بات ضروری تھی تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کیشاید ماہ و سال وفا کی بس

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی Read More »

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھیراہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلےپہلے نشاں زد کر لینا تھا جتنی بات ضروری تھی تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کیشاید ماہ و سال وفا کی بس

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی Read More »

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلےکہاں تک میں دیکھوں یہ منظر اکیلے گلی میں ہواؤں کی سرگوشیاں ہیںگھروں میں مگر سب صنوبر اکیلے نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھیمگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہپرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے جو دیکھو تو اک لہر میں جا رہے

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے Read More »

گُلابوں کے نشیمن سے مِرے محبوب کے سر تک

گُلابوں کے نشیمن سے مِرے محبوب کے سر تکسفر لمبا تھا خُوش بُو کا مگر آ ہی گئی گھر تک وَفا کی سلطنت، اَقلیمِ وعدہ، سَرزمینِ دِلنظر کی زَد میں ہے خوابوں سے تعبیروں کے کِشور تک کہیں بھی سَرنگوں ہوتا نہیں اخلاص کا پرچمجُدائی کے جزیرے سے مُحبّت کے سمندر تک مُحبّت اے مُحبّت!

گُلابوں کے نشیمن سے مِرے محبوب کے سر تک Read More »