بدن سے اُٹھتی تھی اس کے خوش بو، صبا کے لہجے میں بولتا تھا
بدن سے اُٹھتی تھی اس کے خوش بو، صبا کے لہجے میں بولتا تھایہ میری آنکھیں تھیں اس کا بستر وہ اس میں سوتا تھا جاگتا تھا حیا سے پلکیں جھکی ہوئی تھیں، ہوا کی سانسیں رُکی ہوئی تھیںوہ میرے سینے میں سر چھپائے نہ جانے کیا بات سوچتا تھا کوئی تھا چشمِ کرم کا
بدن سے اُٹھتی تھی اس کے خوش بو، صبا کے لہجے میں بولتا تھا Read More »