MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بدن سے اُٹھتی تھی اس کے خوش بو، صبا کے لہجے میں بولتا تھا

بدن سے اُٹھتی تھی اس کے خوش بو، صبا کے لہجے میں بولتا تھایہ میری آنکھیں تھیں اس کا بستر وہ اس میں سوتا تھا جاگتا تھا حیا سے پلکیں جھکی ہوئی تھیں، ہوا کی سانسیں رُکی ہوئی تھیںوہ میرے سینے میں سر چھپائے نہ جانے کیا بات سوچتا تھا کوئی تھا چشمِ کرم کا

بدن سے اُٹھتی تھی اس کے خوش بو، صبا کے لہجے میں بولتا تھا Read More »

اب وہ آنکھوں کے شگوُفے ھیں نہ چہروں کے گُلاب

اب وہ آنکھوں کے شگوُفے ھیں نہ چہروں کے گُلابایک منحوُس اُداسی ھے کہ مِٹتی ھی نہیںاِتنی بے رنگ ھیں اب رنگ کی خوگر آنکھیںجیسے اُس شہرِ تمنّا سے کوئی رَبط نہ تھاجیسے دیکھا تھا سرابدیکھ لیتا ھوُں اگر کوئی شناسا چہرہایک لمحے کو اُسے دیکھ کے رُک جاتا ھوُںسوچتا ھوُں کہ بڑھوں اور کوئی

اب وہ آنکھوں کے شگوُفے ھیں نہ چہروں کے گُلاب Read More »

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئےوُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہکہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے ! وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے Read More »

محبت ایسا نغمہ ہے

محبت ایسا نغمہ ہےذرا بھی جھول ہے لَے میںتو سُر قائم نہیں ہوتا محبت ایسا شعلہ ہےہوا جیسی بھی چلتی ہوکبھی مدھم نہیں ہوتا محبت ایسا رشتہ ہےکہ جس میں بندھنے والوں کےدلوں میں غم نہیں ہوتا محبت ایسا پودا ہےجو تب بھی سبز رہتا ہےکہ جب موسم نہیں ہوتا محبت ایسا دریا ہےکہ بارش

محبت ایسا نغمہ ہے Read More »

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ !

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ ! کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں، جہاں ہر مکین ہو مطمئنکوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ہے، جسے خوفِ آمدِ شب نہیںیہ جو گردبادِ زمان ہے، یہ ازل سے ہے کوئی اب نہیں دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ! یہ جو خار ہیں تِرے پاؤں میں، یہ جو زخم

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ ! Read More »

کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں

کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیںیہ عجیب شہرِ طلسم ہے کہیں آدمی کا نشاں نہیں نہ ہی اِس زمیں کے نشیب میں نہ ہی آسماں کے فراز پرکٹی عمر اُس کو تلاشتے ، جو کہیں نہیں پر کہاں نہیں یہ جو زندگانی کا کھیل ہے، غم و انبساط کا

کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں Read More »

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھےدشتِ طلب میں جا بجا، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ، شہر کے بام و دَر میں تھانگلے ہوئے سوال تھے، اُگلے ہوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی، رُت بھی تھی اِنتظار کیلہجوں میں سیلِ درد تھا، آنکھوں میں اضطراب

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے Read More »

وہ دن گئے کہ دیکھتے عزّت ہے کس کے پاس

وہ دن گئے کہ دیکھتے عزّت ہے کس کے پاساب مسئلہ ہے صرف کہ طاقت ہے کس کے پاس گرتے ہوؤں کو تھام لے، رستہ کسی کو دےعُجلت زدوں کی بھیڑ میں فرصت ہے کس کے پاس بس اس پہ ہوگا فیصلہ، افراد ہوں کہ قومرزقِ شعور، علم کی دولت ہے کس کے پاس صدیوں

وہ دن گئے کہ دیکھتے عزّت ہے کس کے پاس Read More »

خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں

خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیںشجر مجبوریاں پہنے ہوئے ہیں یہ کیسی فصلِ گل آئی چمن میںپرندے خوف سے سہمے ہوئے ہیں ہواؤں میں عجب سی بےکلی ہےدلوں کے سائباں سمٹے ہوئے ہیں ہمارے خواب ہیں مکڑی کے جالےہم اپنے آپ میں الجھے ہوئے ہیں دمکتے، گنگناتے موسموں کےلہو میں ذائقے پھیلے ہوئے ہیں

خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں Read More »

وہ دَمکتی ہوئی لَو ،کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا

وہ دَمکتی ہوئی لَو ،کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُواوہ جو اُلجھا تھا وحشی ہَوا سے کبھی، اُس دِیے کو بُجھے تو زمانہ ہُوا باغ میں پُھول اُس روز جو بھی کِھلا، اُسکی زلفوں میں سجنے کو بے چین تھاجو ستارہ بھی اُس رات روشن ہُوا، اُسکی آنکھوں کی جانب روانہ ہُوا کہکشاں سے

وہ دَمکتی ہوئی لَو ،کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا Read More »