MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتایہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتیںمیں اصل بات سے پہلو تہی اگر کرتا میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتیاگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا مرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہرمرے خلاف زمانے

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا Read More »

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہےخواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے زندگی بھر کی ریاضت مری بیکار گئیاک خیال آیا تھا بدلے میں وہ کیا دیتا ہے اب مجھے لگتا ہے دشمن مرا اپنا چہرہمجھ سے پہلے یہ مرا حال بتا دیتا ہے چند جملے وہ ادا کرتا ہے

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے Read More »

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئیابھی تو رنگ جما تھا کہ رات بیت گئی مری طرف چلی آتی ہے نیند خواب لیےابھی یہ مژدہ سنا تھا کہ رات بیت گئی میں رات زیست کا قصہ سنانے بیٹھ گیاابھی شروع کیا تھا کہ رات بیت گئی یہاں تو چاروں طرف اب تلک اندھیرا

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی Read More »

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوستیہ زمانہ ہے زمانہ ہے زمانہ مرے دوست سامنے تو ہو تصور میں کہانی کوئیاک حقیقت سے بڑا ایک فسانہ مرے دوست میرے بیٹے میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوںتم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست دیکھ سکتا بھی نہیں مجھ کو ضرورت بھی نہیںمیری

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست Read More »

نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گا

نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گاکروں گا میں عشق پر تماشا نہیں کروں گا مری محبت بھی خاص ہے کیونکہ خاص ہوں میںسو عام لوگوں میں ذکر اس کا نہیں کروں گا اسے بتاؤ فرار کا نام تو نہیں عشقجو کہہ رہا ہے میں کار دنیا نہیں کروں گا کبھی نہ سوچا تھا

نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گا Read More »

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچاباتوں سے میرا دل نہ لبھا شہر کو بچا میرے تحفظات حفاظت سے ہیں جڑےمیرے تحفظات مٹا شہر کو بچا تو اس لیے ہے شہر کا حاکم کہ شہر ہےاس کی بقا میں تیری بقا شہر کو بچا تو جاگ جائے گا تو سبھی جاگ جائیں گےاے شہریار

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا Read More »

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوںدریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہےہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں مجھ میں اور اس میں صرف مقدر کا فرق ہےورنہ وہ شخص جتنا ہے اتنا تو میں بھی ہوں اس

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں Read More »

تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟

تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟تُو خاموش کیوں ہے مجھے بتا، تیرا کیا بنا؟ نئی منزلوں کی تلاش تھی سو تُو بچھڑ گیامیں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا، تیرا کیا بنا؟ مجھے علم تھا کہ شکست میرا نصیب ہےتُو امیدوار تھا جیت کا، تیرا کیا بنا؟ میں مقابلے میں شریک تھا فقط

تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟ Read More »

اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے

اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دےخود اپنی شہرت پہ رشک آئے سخن میں ایسا کمال دے دے ستارے تسخیر کرنے والا پڑوسیوں سے بھی بے خبر ہےاگر یہی ہے عروج آدم تو پھر ہمیں تو زوال دے دے تری طرف سے جواب آئے نہ آئے پرواہ نہیں ہے اس کییہی

اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے Read More »

اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میں

اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میںاے رات ہوشیار، کہ تارا نہیں ہوں میں گرمی مرے شعور کی دیتی ہے مجھ کو شکلقسمت کے سرد آنکھ کا لکھا نہیں ہوں میں خوابوں کی سبز دھند سی اب بھی ہے ہر طرفلگتا ہے یوں کہ نیند سے جاگا نہیں ہوں میں اس طرح پھیر پھیر

اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میں Read More »