MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا

آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیاوہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا کُچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقشپھریوں ہُوا کہ خُود مِرا چہرا بدل گیا جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکےتو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا قدموں تلے جو ریت بچھی تھی

آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا Read More »

رہِ طلب کے جو آداب بھول جاتے ہیں

رہِ طلب کے جو آداب بھول جاتے ہیںوہ گمرہی کے بھی اسباب بھول جاتے ہیں کمند چاند ستاروں پہ ڈالنے والےچراغِ منبر و محراب بھول جاتے ہیں جو آ کے ڈوب گئے شہر کے سمندر میںوہ اپنے گاؤں کے تالاب بھول جاتے ہیں تری قبا کے دھنک رنگ دیکھنے والےردائے انجم و ماہتاب بھول جاتے

رہِ طلب کے جو آداب بھول جاتے ہیں Read More »

میں کرپشن کی فضیلت کو کہاں سمجھا تھا

Purani Caar Ka madel Naya Honay Say Darta Hay غزل میں کرپشن کی فضیلت کو کہاں سمجھا تھابحرِ ظلمات کو چھوٹا سا کنواں سمجھا تھا تاج محلوں کی جگہ تم نے بنائی قبریںلیڈروں ہم نے تمہیں شاہ جہاں سمجھا تھا پائنچے جینز کے ٹخنوں سے بہت اوپر تھےمیں ثریا کو ثریا کا میاں سمجھا تھا

میں کرپشن کی فضیلت کو کہاں سمجھا تھا Read More »

پرانی کار کا ماڈل نیا ہونے سے ڈرتا ہے

Purani Caar Ka Model Naya Honay say Darta Hay پرانی کار کا ماڈل نیا ہونے سے ڈرتا ہےعجیب انسان ہے شادی شدہ ہونے سے ڈرتا ہے بہت سائز میں چھوٹا ہو گیا مہنگائی کے باعثکبابِ سیخ بھی اب سیخ پا ہونے سے ڈرتا ہے خلا میں اس لیے ناسا ہمیں جانے نہیں دیتاخلا انسان کا

پرانی کار کا ماڈل نیا ہونے سے ڈرتا ہے Read More »

جب ائرپورٹ پہ لیڈر کے قدم آتے ہیں

Jab Airport pa leedr kay qadam Aatay Hain غزل جب ائرپورٹ پہ لیڈر کے قدم آتے ہیںپھول آتے نہیں اطراف سے بم آتے ہیں اتفاقا کوئی شاعر جو گیا جنت میںحور بھاگی کے بچو اہلِ قلم آتے ہیں جو بہت شوق سے جاتے تھے کسینو کی طرفوہ جوا کھیل کے بادیدہِ نم آتے ہیں ان

جب ائرپورٹ پہ لیڈر کے قدم آتے ہیں Read More »

شاعر مشاعرے کے لیے مان تو گیا

Shair Mashairy Kay lyee Maan tu Gaya غزل شاعر مشاعرے کے لیے مان تو گیالیکن جنابِ میرا کا دیوان تو گیا جس دن ہوا تھا نائن الیون کا واقعہگورے سمجھ رہے تھے مسلمان تو گیا ای این ٹی کا ایک معالج ہے میرا دوستاب ناک جانے والی ہے یہ کان تو گیا دلی کے گیسٹ

شاعر مشاعرے کے لیے مان تو گیا Read More »

میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہے

Main tu Ahl hoon Kissi Aur Ka mri Ahlya koi aur hay غزل میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہےمیں ردیفِ مصرعِ عشق ہوں مرا قافیہ کوئی اور ہے جو لغت کو توڑ مروڑ دے جو غزل کو نثر سے جوڑ دےمیں وہ بد مذاقِ سخن نہیں وہ جدیدیا کوئی

میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہے Read More »

دھاندلی کر کے الیکشن میں یہاں تک آ گئے

Dhandli Kar kay election main Yahan Tak aagayee غزل دھاندلی کر کے الیکشن میں یہاں تک آ گئےبلدیہ سے وہ کلفٹن کے مکاں تک آ گئے اس گلوکارہ میں ریشم کی تھی کچھ ایسی چمکصدرِ محفل بھی کھسک کر ریشماں تک آ گئے ہم جو گولی مار سے نیویارک آئے ایک دنوہ بھی لالو کھیت

دھاندلی کر کے الیکشن میں یہاں تک آ گئے Read More »

روایتوں کی بدلنے لگی فضا ایسی

روایتوں کی بدلنے لگی فضا ایسیمشاعرے میں اب آئے گی، شاعرہ ایسی جو اپنے حسن میں یکتا ہو فن میں کچی ہوپچاس سال کی ہو، دیکھنے میں بچی ہو دراز زلف ہو ، آنکھیں بڑی بڑی اس کیزباں پٹاخہ ہو، باتیں ہوں پھلجھڑی اس کی ذرا سی نیک ہو تھوڑی سی بد تمیز ہو وہسماعتوں

روایتوں کی بدلنے لگی فضا ایسی Read More »

نوابوں کو کنیزوں کی فراوانی نے مارا ہے

Nawaboon ko Kaneezoon ki Farawani nay mara hay غزل نوابوں کو کنیزوں کی فراوانی نے مارا ہےمسلمانو تمہیں جوشِ مسلمانی نے مارا ہے موبائل پر کسی سے غیر شرعی بات کرتا ہےبس اتنی بات پر ملا کو ملانی نے مارا ہے میں اک چھوٹا سا شاعر ہوں بہت راحت میں رہتا ہوںبڑے استاد کو زعمِ

نوابوں کو کنیزوں کی فراوانی نے مارا ہے Read More »