MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ خوش خوراک لگتی ہے چکن بریانیوں جیسی

Wo Khush Khoraak Lagti Hay chiken Biryanio Jaisi غزل وہ خوش خوراک لگتی ہے چکن بریانیوں جیسیبدن آلو بخارہ ہے نظر خوبانیوں جیسی پھر اس نے ہاتھ بھی دکھلا دیا لاہوریوں جیسابس اتنا ہی کہا تھا آپ ہیں ملتانیوں جیسی میں پہلے ہی بہت ڈرتا ہوں دوزخ کے عذابوں سےاور اوپر سے مجھے بیوی ملی

وہ خوش خوراک لگتی ہے چکن بریانیوں جیسی Read More »

پہلے جو تھے قریشی ددھیال کی طرف سے

Pehelay they jo qureshi Dhadhyaal ki Taraf say غزل پہلے جو تھے قریشی ددھیال کی طرف سےوہ بن گئے ہیں سید سسرال کی طرف سے قوالیوں میں جب جب آتی تھی نیند مجھ کوپڑتا تھا اک طمانچہ قوال کی طرف سے معدے کا دعوتوں میں جو حال ہو گیا تھااس حال تک میں پہنچا اسہال

پہلے جو تھے قریشی ددھیال کی طرف سے Read More »

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کاجو اک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا جسے بھی دیکھو چلا جا رہا ہے تیزی سےاگرچہ کام یہاں کچھ نہیں ہے عجلت کا دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہوجو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا یقین کرنے لگے لوگ

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا Read More »

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہےسنوارنے کے لیے اپنا گھر بھی رکھنا ہے ہوا سے آگ سے پانی سے متصل رہ کرانہیں سے اپنی تباہی کا ڈر بھی رکھنا ہے مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہےبچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے یہ کیا سفر کے لیے ہجرتیں جواز

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے Read More »

وہ لڑکی کسی اور بستی کی

وہ لڑکی کسی اور بستی کیرہنے والی تھی جو پتھر پہپھول اگانے کی خواہش میںانگلیاں زخمی کر بیٹھیسنا ہے اس کی بستی میںپھول اور محبت جیون کا لازمی حصہ تھےوہاں لفظوں میں پھول کھلتے تھےاور آنکھوں سے محبت کی کرنیںپھوٹتی تھیںجو کوئی اس بستی میں آتاچند اچھے لفظوں کے بدلےڈھیروں محبت لے جاتاایک دن اس

وہ لڑکی کسی اور بستی کی Read More »

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھاوگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کاخود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیںوہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا Read More »

کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہے

کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہےجو دیکھتے ہی پرندوں کی جان سُوکھتی ہے مجھ ایسا شخص اگر تشنگیِ اہلِ وفارقم کرے تو قلم کی زبان سُوکھتی ہے تری نگہ کی نمی مجھ تک آئے بھی کیسے !ہَوا کی سانس کہیں درمیان سُوکھتی ہے چمک دمک ہے ، مہک ہے مری ذرا کی

کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہے Read More »

اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نےآنسوؤں کو حدِ آداب میں رکھا ہم نے پھر لہو میں ہے کوئی ذائقۂ بت شکنیاتنے دن تک تجھے محراب میں رکھا ہم نے تڑ تڑانے لگا بپھرے ہوئے تاروں کا جلوسپاؤں کیا خیمۂ مہتاب میں رکھا ہم نے یار سمجھے کہ وہی بے سر و سامانی

اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے Read More »

دھب ہے ، کہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

دھب ہے ، کہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہےبیٹھے رہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے یوں ہو تو ہر کسبی انت سہاگن ٹھہرےگجرے ، گہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے کچھ کچھ بات کرو ، جی بہلے ، سکتہ ٹوٹےچپ چپ سہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے جینا ہے تو جی

دھب ہے ، کہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے Read More »

نشاط اور اُداسی نہیں ہے کم سے کم

نشاط اور اُداسی نہیں ہے کم سے کمہماری آنکھ میں کچھ تیرتا ہے نم سے کم بہت بھنور بنے دریا میں جو سہار لیےیہ زندگی کا تلاطم ہے ایک غم سے کم شروع میں ہوا ہو گا وہ قیس نام کا شخصہمارے بعد کوئی ہے اگر تو ہم سے کم جلے چراغ کی لو پر

نشاط اور اُداسی نہیں ہے کم سے کم Read More »