ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے
ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتےیوں ہے کہ ترے سامنے ہم کچھ نہیں کہتے واپس چلے آتے ہیں یونہی دامنِ دل تککچھ اشک سرِ دیدۂ نم کچھ نہیں کہتے میں شام سے تا صبح جو پھرتا ہوں بھنور سااِس باب میں اربابِ کرم کچھ نہیں کہتے اپنے لیے اِک درجہ بنا
ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے Read More »