MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتےیوں ہے کہ ترے سامنے ہم کچھ نہیں کہتے واپس چلے آتے ہیں یونہی دامنِ دل تککچھ اشک سرِ دیدۂ نم کچھ نہیں کہتے میں شام سے تا صبح جو پھرتا ہوں بھنور سااِس باب میں اربابِ کرم کچھ نہیں کہتے اپنے لیے اِک درجہ بنا

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے Read More »

خیرات ، بجز حسّنِ مودّت نہیں مانگی

خیرات ، بجز حسّنِ مودّت نہیں مانگیاللہ کے مزدور ہیں ، اُجرت نہیں مانگی اک بار سرِ دشت اُٹھا ہاتھ ہماراپھر ہم سے کسی شخص نے بیعت نہیں مانگی بس اُس کی اطاعت میں رہے آخری دم تکہم نے کبھی اقرار کی مہلت نہیں مانگی اللہ نے بخشا ہے ہمیں آیۂ تطہیردُنیا کے ذلیلوں سے

خیرات ، بجز حسّنِ مودّت نہیں مانگی Read More »

بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا، کیا بنے گا

بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا، کیا بنے گادریدہ بادباں اپنا سہارا کیا بنے گا بڑوں پر منکشف تھی سہل انگاری ہماریہمیں اجداد کہتے تھے ، تمہارا کیا بنے گا ابھی سے خال و خد روشن ہوئے جاتے ہیں اس کےکبھی جو چاک پر آیا تو گارا کیا بنے گا حِرائے ذہن میں اُترا ہے جبریلِ

بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا، کیا بنے گا Read More »

تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نا

تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نادل توڑنے والوں میں ترا نام تو ہے نا کہتے ہیں اداسی کا سبب کوئی تو ہوگاکچھ بھی نہ ہو اک سلسلۂ شام تو ہے نا یونہی تو نہیں رہتیں افق پر مری آنکھیںوہ ماہِ ہنر تاب سرِبام تو ہے نا میں کوئی قلندر ہوں کہ تقدیر

تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نا Read More »

سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے

سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھےڈھلی جب شام تو تنہائی کی ٹہنی پہ جا بیٹھے خماری بھی ہے اور بادِ بہاری بھی سرِ صحرااور اس لمحے عروسِ گُل اگر پہلو میں آ بیٹھے مُبادا خلوتِ خوشبو کا شیرازہ بکھر جائےگلوں پر بے نیازانہ بہ اندازِ صبا بیٹھے ازل سے آمد و شُد کا یہ

سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے Read More »

ساحل سے واپس ہو لیے سارے صدف رستہ نہ تھا

ساحل سے واپس ہو لیے سارے صدف رستہ نہ تھاگم ہو گئے گرداب میں گوہر بکف رستہ نہ تھا رکھی تھی اک سل راہ میں ہستی کا حاصل راہ میںآنکھیں تھیں حائل راہ میں دل کی طرف رستہ نہ تھا خاموش تھے اہلِ سخن چپ چاپ تھا پتوں کا بنکیسی لگن کیسی چبن کیسا شرف

ساحل سے واپس ہو لیے سارے صدف رستہ نہ تھا Read More »

طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا

طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکایہی وہ راہ ہے جس میں ہے جان کا کھٹکا نہ بوریا بھی میسّر ہوا بچھانے کوہمیشہ خواب ہی دیکھا کیے چھپر کھٹ کا شبِ فراق میں اُس غیرتِ مسیح بغیراُٹھا اُٹھا کے مجھے، دردِ دل نے دے پٹکا پری سے چہرہ کو اپنے وہ نازنیں دکھلائےحجاب

طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا Read More »

آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درست

آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درستبیمار سال بھر کے نظر آئیں تندرست حالِ شکستہ کا جو کبھی کچھ بیان کیانکلا نہ ایک اپنی زباں سے سخن درست رکھتے ہیں آپ پاؤں کہیں پڑتے ہیں کہیںرفتار کا تمہاری نہیں ہے چلن درست جو پہنے اُس کو جامہء عریانی ٹھیک ہواندام پر ہر اک کے ہے

آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درست Read More »

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہےخزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہےبلند آج نہایت غبار راہ میں ہے شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طفلیہنوز حسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میںنہ کوئی شہر نہ کوئی

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے Read More »

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمامکرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام حقا کے عِشق رکھتے ہیں تجھ سے حَسینِ دہردَم بھرتے ہیں تِرا بُتِ چین و چگِل تمام ٹپکاتے زخمِ ہجر پر اے ترک ، کیا کریںخالی ہیں تیل سے تِرے، چہرے کے تِل تمام دیکھا ہے جب تجھے

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام Read More »