MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا

وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہواجو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہوا شہید ناز و ادا کا ترے زمانہ ہوااڑایا مہندی نے دل چور کا بہانہ ہوا شب اس کے افعئ گیسو کا جو فسانہ ہواہوا کچھ ایسی بندھی گل چراغ خانہ ہوا نہ زلف یار کا خاکہ بھی کر سکا

وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا Read More »

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہےالٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کادہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتیگریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے فراق یار میں دل پر نہیں

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے Read More »

جاذب قریشی – شاعری میں لفظ و بیان کی آگہی رکھنے والا شاعر

جاذب قریشی کی کتاب "شاعری اور تہذیب” (سن اشاعت: جون 1988) کے فلیپ پر لکھا گیا عزیز حامد مدنی کا مضمون پیش خدمت ہے۔ تحریر عزیز حامد مدنی شاعری میں لفظ و بیان کی آگہی رکھنا اور اسے اپنے عصر کے فکری محرکات کی رو میں مستند شعرا کے کلام میں تلاش کرنا ایک ایسی

جاذب قریشی – شاعری میں لفظ و بیان کی آگہی رکھنے والا شاعر Read More »

تپتے پتھر کی سلوں پر کوئی چشمہ لکھ دے

تپتے پتھر کی سلوں پر کوئی چشمہ لکھ دےاس کڑی دھوپ کے آنگن کوئی سایہ لکھ دے ان سرابوں سے کوئی موجِ رواں بھی ابھرےخشک صحرا کے ورق پر کوئی دریا لکھ دے آسمانوں سے مرے ساری بلائیں ٹل جائیںاسم کوئی مری تقدیر میں ایسا لکھ دے معجزہ کوئی مرے عہد میں بھی ظاہر ہومیرا

تپتے پتھر کی سلوں پر کوئی چشمہ لکھ دے Read More »

کس سے پیمانِ وفا باندھتے ہو

کس سے پیمانِ وفا باندھتے ہووقتِ کا آبِ رواں ہے یہ تو زخم پھر سے نہ ہرے ہوجائیںمجھ سے یوں پیار کی باتیں نہ کرو کوئی گاتی ہوئی شہنائی ہےجھانک کر پردہء گل میں دیکھو جب افق پار سے پو پھوٹتی ہےتھرتھراتی ہے مرے شوق کی لو جب ستاروں کے کنول کھلتے ہیںجھلملاتا ہے تمہارا

کس سے پیمانِ وفا باندھتے ہو Read More »

پاس رہ کر بھی رہیں دوریاں حائل کیا کیا

پاس رہ کر بھی رہیں دوریاں حائل کیا کیافاصلے تھے ابھی باقی سرِ منزل کیا کیا آج تک کھل نہ سکے تیرے بدن کے اسرارطے کیے یوں تو زمانے نے مراحل کیا کیا ذلف کا پیچ کبھی نیم نگاہی کا فسوںہم کو گھیرے رہے دنیا میں مسائل کیا کیا نیچی نظروں کا یہ افسوں گلِ

پاس رہ کر بھی رہیں دوریاں حائل کیا کیا Read More »

عمر کے کتنے ماہ و سال خواب و خیال ہو گئے

عمر کے کتنے ماہ و سال خواب و خیال ہو گئےرہ کا غبار بن گئے دشتِ ملال بن گئے اک نئی نوید کے جتنے بھی ممکنات تھےوہ بھی اسیرِ پنجہِ ماضی و حال ہو گئے اس بھری کائینات سے مل نہ سکا کوئی جوابشدتِ آرزو میں ہم ایسا سوال ہو گئے ترک و طلب کی

عمر کے کتنے ماہ و سال خواب و خیال ہو گئے Read More »

اجڑا ہوا نگر ہے یہاں اور کچھ نہیں

اجڑا ہوا نگر ہے یہاں اور کچھ نہیںتنہائیوں کا ڈر ہےیہاں اور کچھ نہیں کشتی کنارے بحر سے اب دیکھتے ہو کیابپھرا ہوا بھنور ہے یہاں اور کچھ نہیں دیکھو گے اب کہاں کسی پرواز کا سماںبس اک شکستہ پر ہے یہاں اور کچھ نہیں قدموں کی چاپ ہے نہ کوئی آشنا صداآسیب دربدر ہے

اجڑا ہوا نگر ہے یہاں اور کچھ نہیں Read More »

اور کوئی نہیں تھا میرے خلاف

اور کوئی نہیں تھا میرے خلافمیں تو خود ہی رہا ہوں اپنے خلاف وہ حقیقت میں تھا خود اپنے خلافجو کیا میں نے دوسروں کے خلاف ہر کوئی دوسرے کی فکر میں ہےہر کوئی ہے یہاں کسی کے خلاف عمرِ دو روزہ میں یہی دیکھاکبھی اپنے کبھی پرائے خلاف جو برے تھے وہ خیر تھے

اور کوئی نہیں تھا میرے خلاف Read More »