سوال شکر و شکایت کا اب رہا ہی نہیں
سوال شکر و شکایت کا اب رہا ہی نہیںوہ کج شعار مری سمت دیکھتا ہی نہیں کسی میں حوصلۂ ترک مدعا ہی نہیںیہ وہ محاذ ہے جس پر کوئی ڈٹا ہی نہیں تھما جو خیر سے طوفاں تو ہے بھنور آگےمرے خلاف سمندر بھی ہے ہوا ہی نہیں وہ جس کا خوف گناہوں سے روک
سوال شکر و شکایت کا اب رہا ہی نہیں Read More »