MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سوال شکر و شکایت کا اب رہا ہی نہیں

سوال شکر و شکایت کا اب رہا ہی نہیںوہ کج شعار مری سمت دیکھتا ہی نہیں کسی میں حوصلۂ ترک‌ مدعا ہی نہیںیہ وہ محاذ ہے جس پر کوئی ڈٹا ہی نہیں تھما جو خیر سے طوفاں تو ہے بھنور آگےمرے خلاف سمندر بھی ہے ہوا ہی نہیں وہ جس کا خوف گناہوں سے روک

سوال شکر و شکایت کا اب رہا ہی نہیں Read More »

جس میں اک حسن توازن ہو وہ ندرت دی جائے

جس میں اک حسن توازن ہو وہ ندرت دی جائےکیا قباحت ہے اگر فکر کو وسعت دی جائے مشورے قابل تسلیم ترے ہیں کہ نہیںغور کرنے کے لئے کچھ مجھے مہلت دی جائے مصلحت جھوٹ پہ انسان کو مائل کر دےاس قدر سخت نہ تعزیر صداقت دی جائے اس عمل سے دل فنکار پہ کیا

جس میں اک حسن توازن ہو وہ ندرت دی جائے Read More »

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائے

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائےذرا سی دیر میں انسان کیا سے کیا ہو جائے نہ جانے کتنے دلوں سے امنڈ پڑے آنسوخدا کرے یہ مرا ساز بے صدا ہو جائے کسی کتاب کسی رہنما کی حاجت کیاہر ایک نقص اگر شعر میں روا ہو جائے عجیب رسم زمانہ ہے اس کو کیا

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائے Read More »

مرّیخ و ماہتاب نہیں چاہیئے مجھے

مرّیخ و ماہتاب نہیں چاہیئے مجھےتم آسماں طلب ہو زمیں چاہیئے مجھےپھرتا ہوں کب سے گھر کا اثاثہ لیے ہوئےملتا نہیں ہے جیسا امیں چاہیئے مجھےقصرِ بسیط دل کی طلب ہے ہوا کرےمیں جانتا ہوں کتی زمیں چاہیئے مجھےجس پر کسی کا طنز نہ تضحیک ہو گراںایسی شکن سے پاک جبیں چاہیئے مجھےغارت گرِ چمن

مرّیخ و ماہتاب نہیں چاہیئے مجھے Read More »

شک تجھ کو گمرہی کا کبھی راہبر نہ ہو

شک تجھ کو گمرہی کا کبھی راہبر نہ ہویہ شرط ہے کہ خام شُعورِ نظر نہ ہوناکامیوں سے عزم نکھرتا ہے اور بھیدراصل معرکہ تو وہی ہے جو سر نہ ہومنزل کی جستجو میں نکلنا فضول ہےجب تک جنونِ شوق، شریکِ سفر نہ ہوہم اُس امیرِ شہر سے ہیں عافیت طلبکس حال میں ہیں‌لوگ، جسے

شک تجھ کو گمرہی کا کبھی راہبر نہ ہو Read More »

شکوہ غم بھی گیا طاقتِ گویائی بھی

شکوہ غم بھی گیا طاقتِ گویائی بھیبھول جاتا ہوں کوئی بات جو یاد آئی بھی دیکھنا بھی نہیں اس سمت گوارا ان کوختم ہے سلسلہء حوصلہ افزائی بھی جب سے اندازِ بہاراں میں تغیر آیامٹ گیا دل سے خیالِ چمن آرائی بھی ہر طرف بانگِ جرس ، بانگِ دِرا، بانگِ آذاںسونے والے ہیں کہ لیتے

شکوہ غم بھی گیا طاقتِ گویائی بھی Read More »

کیسے کیسے خواب دیکھے، دربدر کیسے ہوئے​

کیسے کیسے خواب دیکھے، دربدر کیسے ہوئے​کیا بتائیں روز و شب اپنے بسر کیسے ہوئے​ ​نیند کب آنکھوں میں آئی، کب ہوا ایسی چلی​سائباں کیسے اُڑے، ویراں نگر کیسے ہوئے​ ​کیا کہیں وہ زُلفِ سرکش کس طرح ہم پر کھلی​ہم طرف دار ہوائے راہگُزر کیسے ہوئے​ ​حادثے ہوتے ہی رہتے ہیں مگر یہ حادثے​اک ذرا

کیسے کیسے خواب دیکھے، دربدر کیسے ہوئے​ Read More »

پاس اپنے اک جان ہے سائیں

پاس اپنے اک جان ہے سائیں​باقی یہ دیوان ہے سائیں​ ​جس کا کوئی مول نہ گاہک​کیسی یہ دوکان ہے سائیں​ ​آنسو اور پلک تک آئے​آنسو اگنی بان ہے سائیں​ ​جوگی سے اور جگ کی باتیں​جوگی کا اپمان ہے سائیں​ ​میں جھوٹا تو دنیا جھوٹی ​میرا یہ ایمان ہے سائیں​ ​جیسا ہوں جس حال میں ہوں میں​اللہ

پاس اپنے اک جان ہے سائیں Read More »

رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے​

رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے​ٹوٹنے کا گماں بھی ہوتا ہے​ ​اس توہم کے کارخانے میں​کارِ شیشہ گراں بھی ہوتا ہے​ ​ہم سے عزلت نشیں بھی ہوتے ہیں​عرصۂ لامکاں بھی ہوتا ہے​ ​ہم بھی ہوتے ہیں اُس کی محفل میں​رقصِ سیّارگاں بھی ہوتا ہے​ ​بادِ صحرائے جاں بھی ہوتی ہے​نغمۂ سارباں بھی ہوتا ہے​

رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے​ Read More »

خواب اُس کے ہیں جو چُرا لے جائے​

خواب اُس کے ہیں جو چُرا لے جائے​نیند اُس کی ہے جو اُڑا لے جائے​ ​زُلف اُس کی ہے جو اُسے چھولے​بات اُس کی ہے جو بنا لے جائے​ ​تیغ اُس کی ہے شاخِ گُل اُس کی​جو اُسے کھینچتا ہوا لے جائے​ ​یوں تو اُس پاس کیا نہیں پھر بھی​ایک درویش کی دعا لے جائے​

خواب اُس کے ہیں جو چُرا لے جائے​ Read More »