سامنے جی سنبھال کر رکھنا
سامنے جی سنبھال کر رکھناپھر وہی اپنا حال کر رکھنا آ گئے ہو تو اِس خرابے میںاب قدم دیکھ بھال کر رکھنا شام ہی سے برس رہی ہے راترنگ اپنے سنبھال کر رکھنا عشق کارِ پیمبرانہ ہےجس کو چھُونا مثال کر رکھنا کشت کرنا محبتیں اور پھر خود اُسے پائمال کر رکھنا روز جانا اُداس گلیوں
سامنے جی سنبھال کر رکھنا Read More »