MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سامنے جی سنبھال کر رکھنا​

سامنے جی سنبھال کر رکھنا​پھر وہی اپنا حال کر رکھنا​ ​آ گئے ہو تو اِس خرابے میں​اب قدم دیکھ بھال کر رکھنا​ ​شام ہی سے برس رہی ہے رات​رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا​ ​عشق کارِ پیمبرانہ ہے​جس کو چھُونا مثال کر رکھنا​ ​کشت کرنا محبتیں اور پھر ​خود اُسے پائمال کر رکھنا​ ​روز جانا اُداس گلیوں

سامنے جی سنبھال کر رکھنا​ Read More »

رات درکار تھا سنبھالا مجھے​

رات درکار تھا سنبھالا مجھے​دیکھتا ہی رہا پیالہ مجھے​ ​جانے کس شام کا ستارہ ہوں​جانے کس آنکھ نے اُجالا مجھے​ ​میرے دل سے اُتار دے نہ کہیں​ایک دن یہ ترا حوالہ مجھے​ ​کس طرح میں زمیں کا رزق ہوا​کس طرح اس زمیں نے پالا مجھے​ ​اور کتنی ہے زندگی میری​اور کرنا ہے کیا ازالہ مجھے​

رات درکار تھا سنبھالا مجھے​ Read More »

دل نے اپنی زباں کا پاس کیا​

دل نے اپنی زباں کا پاس کیا​آنکھ نے جانے کیا قیاس کیا​ ​کیا کہا بادِ صبح گاہی نے​کیا چراغوں نے التماس کیا​ ​کچھ عجب طور زندگانی کی​گھر سے نکلے نہ گھر کا پاس کیا​ ​عشق جی جان سے کیا ہم نے​اور بے خوف و بے ہراس کیا​ ​رات آئی ادھر ستاروں نے​شبنمی پیرہن لباس کیا​

دل نے اپنی زباں کا پاس کیا​ Read More »

دیدنی اک جہان ہے، پر کیا​

دیدنی اک جہان ہے، پر کیا​اُس کے در سے اُٹھائیے سر کیا​ ​اک معمّا ہے گنبدِ بے در​اک کہانی ہے ساتواں در کیا​ ​شہر کا شہر سیلِ آب میں ہے​رہ میں مجھ غریب کا گھر کیا​ ​ایک مجذوب کی ولایت میں ​پتھروں سے بچائیے سر کیا​ ​شام آتے ہی اژدھے کی طرح​سرسراتی ہے بادِ صر صر

دیدنی اک جہان ہے، پر کیا​ Read More »

خاک اُڑتی ہے اس جہان میں کیا​

خاک اُڑتی ہے اس جہان میں کیا​پھول کھلتے ہیں آسمان میں کیا​ ​عشق تیرے خیال میں کیا ہے​زندگی ہے ترے گُمان میں کیا​ ​میں جو حیرت زدہ سا رہتا ہوں​بات آتی ہے تیرے دھیان میں کیا​ ​نیند آرام کر رہی ہے ابھی​تیری پلکوں کے سائبان میں کیا​ ​کیا ہوئے وہ شکست خوردہ لوگ​آگئے سب تری

خاک اُڑتی ہے اس جہان میں کیا​ Read More »

بات بھی تول رہا ہے پیارے​

بات بھی تول رہا ہے پیارے​یا یونہی بول رہا ہے پیارے​ ​شہر میں ڈھونڈ پڑی ہے تیری​تو یہاں ڈول رہا ہے پیارے​ ​جب سے کنگال ہوا ہے یہ دل​سیپیاں رول رہا ہے پیارے​ ​وہ کوئی اور ہو نہیں سکتا​مجھ میں جو بول رہا ہے پیارے​ ​اپنے لہجے میں انا کا اپنی​زہر کیوں گھول رہا ہے

بات بھی تول رہا ہے پیارے​ Read More »

ترے نزدیک آکر سوچتا ہوں

ترے نزدیک آکر سوچتا ہوںمیں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہومیں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں خدا جانے مری گھٹڑی میں کیا ہےنہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں یہ کوئی اور ہے اے عکس دریامیں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں نہ آدم ہے نہ آدم

ترے نزدیک آکر سوچتا ہوں Read More »

سَر اُٹھایا تو سَر رہے گا کیا؟

سَر اُٹھایا تو سَر رہے گا کیا؟خوف یہ عُمر بھر رہے گا کیا؟ اُس نے زنجیر کر کے رکّھا ہےہم سے وہ بے خبر رہے گا کیا؟ پاؤں رہتے نہیں زمیں پہ تِرےہاتھ دستار پر رہے گا کیا؟ وہ جو اِک خواب ہم نے دیکھا تھاخواب وہ عُمر بھر رہے گا کیا؟ مر رہے ہیں

سَر اُٹھایا تو سَر رہے گا کیا؟ Read More »

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگیزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگی کیا ارادوں سے ہے حاصل؟ طاقت و فرصت کہاںہاےٗ! کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی اے سر شوریدہ اب تیرے وہ سودا کیا ہوےٗ!کیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزاآہ

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی Read More »

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کررہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کر زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کوگل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر اشک شادی ہے یہ کچھ مثدہ صبا لائی ہےشبنم آلودہ ہوا پھول جو خنداں ہو کر ذرہٗ وادئ الفت

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر Read More »