MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بیگانہ ہوا

اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بیگانہ ہوامیں تری محفل میں آکر اور بھی تنہا ہوا وقفِ دردِ جاں ہوا ،حوِ غمِ دنیا ہوادل عجب عجب شے ہے کبھی قطرہ ہوا دریا ہوا تیری آہٹ کے تعاقب میں ہوں صدیوں سے رواںراستوں کے پیچ و خم میں ٹھوکریں کھاتا ہوا اب تو تیرے حسن

اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بیگانہ ہوا Read More »

اےہم نفساں کارِتنفس بھی عجب ہے

اےہم نفساں کارِتنفس بھی عجب ہےہوتا ہے تو لگتا ہے کہ ہونے کے سبب ہے کس باب میں ہم تختیِ دوراں پہ لکھے جائیںمنصب نہ علاقہ نہ کوئی نام و نسب ہے تاریکیِ شب میں مرے ہونے کی گواہیاک موجِ ہوا تھی سو وہی مہر بلب ہے آ جائے تو آنکھوں کی طنابیں کھنچی رہ

اےہم نفساں کارِتنفس بھی عجب ہے Read More »

عجب سکوت سا ہے وقت بھی رکا ہوا ہے

عجب سکوت سا ہے وقت بھی رکا ہوا ہےمری زمیں تری گردش کو آج کیا ہوا ہے ذرا سا مرتبہ جس جس کو بھی ملا ہوا ہےوہ شخص شہر میں جیسے خدا بنا ہوا ہے میں داستان سرائے میں آتا رہتا ہوںکہیں کہیں سے یہ قصہ مرا سنا ہوا ہے یہاں سے کس کی سواری

عجب سکوت سا ہے وقت بھی رکا ہوا ہے Read More »

میں آ رہا تھا ستاروں پہ پاؤں دھرتے ہوئے

میں آ رہا تھا ستاروں پہ پاؤں دھرتے ہوئےبدن اتار دیا خاک سے گزرتے ہوئے جمال مجھ پہ یہ اک دن میں تو نہیں آیاہزار آئینے ٹوٹے مرے سنورتے ہوئے عجب نظر سے چراغوں کی سمت دیکھا ہےہوا نے زینۂ پندار سے اترتے ہوئے اک آدھ جام تو پی ہی لیا تھا ہم نے بھیخمار

میں آ رہا تھا ستاروں پہ پاؤں دھرتے ہوئے Read More »

ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نے

ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نےپھر ایک عمر اندھیروں میں کاٹ دی ہم نے دیے میں زور بہت تھا مگر نہ جانے کیوںبس ایک حد سے نہ بڑھنے دی روشنی ہم نے اٹھا اٹھا کے ترے ناز اے غم دنیاخود آپ ہی تری عادت خراب کی ہم نے وفا میں

ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نے Read More »

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئےشجر گرا تو پرندے تمام شب روئے کسی کا بھی نہ چراغوں کی سمت دھیان گیاشب نشاط وہ کب کب بجھے تھے کب روئے ہزار گریہ کے پہلو نکلنے والے ہیںاسے کہو کہ وہ یوں ہی نہ بے سبب روئے ہمارے زاد سفر میں بھی درد رکھا

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے Read More »

اس رات کسی اور قلمرو میں کہیں تھا

اس رات کسی اور قلمرو میں کہیں تھاتم آئے تو میں اپنے بدن ہی میں نہیں تھا کیا بزم تھی اس بزم میں کون آئے ہوئے تھےمہتاب بھی سورج بھی ستارہ بھی وہیں تھا کچھ نیند سے بوجھل تھیں ترے شہر کی آنکھیںکچھ میری کہانی میں بھی وہ ربط نہیں تھا کہتے ہیں کہ رک

اس رات کسی اور قلمرو میں کہیں تھا Read More »

میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا

میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھاوہ حبس تھا کمروں میں کہ گھر کاٹ رہا تھا لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ بنیاد غلط ہےدیوار کو برسات کا ڈر کاٹ رہا تھا کانٹوں سے نہیں آبلہ پائی کو شکایتتلوئو ں کو تو بے فیض سفر کاٹ رہا تھا ہر شخص مجھے صورتِ اخبار

میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا Read More »

لوگ حیران ہیں اس پار سے ہوتا کیا ہے

لوگ حیران ہیں اس پار سے ہوتا کیا ہےایک دیوار ہے دیوار سے ہوتا کیا ہے اس کی عادت ہے تماشا سا لگائے رکھنااور اس صاحبِ اسرار سے ہوتا کیا ہے بادشاہی تو فقیری میں بھی ہو جاتی ہےتخت سے تاج سے دربار سے ہوتا کیا ہے ہم نے اک لفظ سے تاریخ بدل کر

لوگ حیران ہیں اس پار سے ہوتا کیا ہے Read More »

ستارے پلکوں پہ جلوہ گر تھے شکست عزم فغاں سے پہلے

ستارے پلکوں پہ جلوہ گر تھے شکست عزم فغاں سے پہلےغم نہاں سے زمانہ واقف تھا شرح سوز نہاں سے پہلے ہماری ہی سعئ جستجو نے سراغ منزل دیا جہاں کوتلاش منزل میں ہم روانہ ہوئے تھے ہر کارواں سے پہلے پسند آیا نہ بجلیوں کو کوئی جو کرتیں طواف ان کاملے کئی اور بھی

ستارے پلکوں پہ جلوہ گر تھے شکست عزم فغاں سے پہلے Read More »