اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بیگانہ ہوا
اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بیگانہ ہوامیں تری محفل میں آکر اور بھی تنہا ہوا وقفِ دردِ جاں ہوا ،حوِ غمِ دنیا ہوادل عجب عجب شے ہے کبھی قطرہ ہوا دریا ہوا تیری آہٹ کے تعاقب میں ہوں صدیوں سے رواںراستوں کے پیچ و خم میں ٹھوکریں کھاتا ہوا اب تو تیرے حسن
اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بیگانہ ہوا Read More »