MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو اک جھلک تم جو لبِ بام دکھا جاتے ہودل پہ اک کوندتی بجلی سی گِرا جاتے ہو میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیبیہ بھی کیا کم ہے تصوّر میں تو آجاتے ہو تازہ کر جاتے

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو Read More »

تعبیروں کی حسرت میں کیسے کیسے خواب رہے

تعبیروں کی حسرت میں کیسے کیسے خواب رہےدولت اک دن برسے گی اب تو اپنی باری ہے اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہےاس امید پہ ساری عمر چھپر تلے گزاری ہے اطہر شاہ خان جیدی

تعبیروں کی حسرت میں کیسے کیسے خواب رہے Read More »

شاعروں نے رات بھر بستی میں واویلا کیا

شاعروں نے رات بھر بستی میں واویلا کیاداد کے ہنگامہ سے پورا محلہ ڈر گیا اک ضعیفہ اپنے بیٹے سے یہ بولی اگلے روزرات کیسا شور تھا کیا کوئی شاعر مر گیا اطہر شاہ خان جیدی

شاعروں نے رات بھر بستی میں واویلا کیا Read More »

کھڑا ہے گیٹ پہ شاعر مشاعرے کے بعد

کھڑا ہے گیٹ پہ شاعر مشاعرے کے بعدرقم کے وعدے پر اس کو اگر بلایا تو دے کوئی تو ڈھونڈ کے لائے کہ منتظم ہے کہاںلفافہ گر نہیں دیتا نہ دے کرایہ تو دے اطہر شاہ خان جیدی

کھڑا ہے گیٹ پہ شاعر مشاعرے کے بعد Read More »

ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا

ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایاجب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھابس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے اطہر شاہ خان جیدی

ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا Read More »

”صاحب زادے کرتے کیا ہیں” لڑکی والوں نے پوچھا

”صاحب زادے کرتے کیا ہیں” لڑکی والوں نے پوچھا”جب دیکھو فارغ پھرتے ہیں یا پیتے تمباکو ہیں!” لڑکے کی اماں یہ بولیں کام کرے اس کی جوتیدو بھائی بھتہ لیتے ہیں ابا خیر سے ڈاکو ہیں اطہر شاہ خان جیدی

”صاحب زادے کرتے کیا ہیں” لڑکی والوں نے پوچھا Read More »

یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا

یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلاجس پہ قانون بھی لاگو ہو وہ ہتھیار چلا پیٹ ہی پھول گیا اتنے خمیرے کھا کرتیری حکمت نہ چلی اور ترا بیمار چلا بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغفبھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے

یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا Read More »

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دیناظلم کرنے والوں کی وردیاں جلا دینا ان سے پوچھیے جن کی کائنات جلتی ہےدیکھنے میں آساں ہے بستیاں جلا دینا دربدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میںبیلچے اٹھا لینا، ڈگریاں جلا دینا موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتیجنگ جیتنا چاہو تو کشتیاں جلا دینا پھر بہو

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا Read More »