کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو
کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو اک جھلک تم جو لبِ بام دکھا جاتے ہودل پہ اک کوندتی بجلی سی گِرا جاتے ہو میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیبیہ بھی کیا کم ہے تصوّر میں تو آجاتے ہو تازہ کر جاتے
کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو Read More »