گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو
گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کومِلا ہم کو ہمارا ہی تماشا دیکھنے کو کھڑے ہیں راہ چلتے لوگ کتنی خاموشی سےسڑک پر مرنے والوں کا تماشا دیکھنے کو بہت سے آئینہ خانے ہیں اس بستی میں لیکنترستی ہے ہماری آنکھ چہرہ دیکھنے کو کمانوں میں کھنچے ہیں تیر، تلواریں چمکتی ہیںذرا
گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو Read More »