MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو​

گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو​مِلا ہم کو ہمارا ہی تماشا دیکھنے کو​ ​کھڑے ہیں راہ چلتے لوگ کتنی خاموشی سے​سڑک پر مرنے والوں کا تماشا دیکھنے کو​ ​بہت سے آئینہ خانے ہیں اس بستی میں لیکن​ترستی ہے ہماری آنکھ چہرہ دیکھنے کو​ ​کمانوں میں کھنچے ہیں تیر، تلواریں چمکتی ہیں​ذرا

گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو​ Read More »

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہےاُٹھو کہ تم کو جگانے والا کوئی نہیں ہے کیا ہے ثابت یہ کربلا نے کہ مومنوں کوسوا خدا کے جھکانے والا کوئی نہیں ہے محافظ اپنے ہو آپ ہی تم، یہ یاد رکھوجہاں میں تم کو بچانے والا کوئی نہیں ہے تمہارے رہبر ہیں آلِ احمد، کتابِ

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے Read More »

کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم​

کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم​وہ بدحواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم​ ​ہمارے شہر میں ہر روز اک قیامت ہےیہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں معلوم ہمارا صبر تجھے خاک میں ملا دے گاہمارے صبر کا تجھ کو اثر نہیں معلوم ہم اپنے گھر میں بھی بےخوف رہ نہیں سکتےکہ ہم

کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم​ Read More »

ایک نیا موڑ دیتے ہوئے پھر فسانہ بدل دیجئے

ایک نیا موڑ دیتے ہوئے پھر فسانہ بدل دیجئےیا تو خود ہی بدل جائیے یا زمانہ بدل دیجئے تر نوالے خوش آمد کہ جو کھا رہے ہیں وہ مت کھائیےآپ شاہین بن جائیں گے آب و دانہ بدل دیجئے یہ وفا کا جنازہ میاں اور ڈھوئیں گے کتنے دنوںجب وہ تسلیم کرتا نہیں، آپ شانہ

ایک نیا موڑ دیتے ہوئے پھر فسانہ بدل دیجئے Read More »

ستم کروگے ستم کریں گے

ستم کروگے ستم کریں گےکرم کروگے کرم کریں گےہم آدمی ہیں تمھارے جیسےجوتم کروگے وہ ہم کریں گے چلائے خنجر تو گھاؤ دیں گےبنوگے شعلہ آلاؤ دیں گےہمیں ڈبونے کی سوچنا متتمہیں بھی کاغذ کی ناؤ دیں گےقلم ہوئے تو قلم کریں گےجو تم کروگے وہ ہم کریں گے تم اُٹھتے ہاتھوں کو کاٹ ڈالوکہ

ستم کروگے ستم کریں گے Read More »

ظلم والوں سے محبت نہیں کرسکتا میں

ظلم والوں سے محبت نہیں کرسکتا میںان گنہگاروں کی عزت نہیں کرسکتا میں ہر غلط بات پہ میں آپ کی کہہ دو لبیکاس طرح خونِ صداقت نہیں کرسکتا میں وہ تو زخموں کو نمکدان بنا دیتے ہیںدل کے زخموں پہ سیاست نہیں کرسکتا میں بات سنتے ہی اُتر آتے ہیں گستاخی پراب تو بچوں کو

ظلم والوں سے محبت نہیں کرسکتا میں Read More »

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہے

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہےتھوڑی دھوپ جیسی ہے ، تھوڑی چھاؤں والی ہے پھر لہو میں ڈوبا ہے ، آدمی کا مستقبلیہ صدی جو آئی ہے ، کربلاؤں والی ہے سب سے جھک کے ملتا ہے ، سب سے پیار کرتا ہےیہ جو ہے ادا اس میں ، یہ تو گاؤں والی ہے

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہے Read More »

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیںفرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفرکچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہوسو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں Read More »

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھاجسے طلب تھی اُسی کی طرف نہیں دیکھا سبھی کو دُکھ تھا سمندر کی بیقراری کاکسی نے مُڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا جو آئینے سے ملا آئینے پہ جھنجھلایاکسی نے اپنی کمی کی طرف نہیں دیکھا سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسمکہ پھر کسی

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا Read More »

جس کو بھی آگ لگانے کا ہُنر آتا ہے

جس کو بھی آگ لگانے کا ہُنر آتا ہےوہی ایوانِ سیاست میں نظر آتا ہے خالی دامن ہیں یہاں پیڑ لگانے والےاور حصے میں لٹیروں کے ثمر آتا ہے یاد آجاتی ہے پردیس گئی بہنوں کیجھُنڈ چڑیوں کا جب آنگن میں اُتر آتا ہے اَنگنت سال کا جلتا ہوا بوڑھا سورججانے کیوں روز سویرے میرے

جس کو بھی آگ لگانے کا ہُنر آتا ہے Read More »