MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھےتو بہت دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چلہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہےکل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیںاک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔسب میں اک

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے Read More »

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہےعکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گےآبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتاتم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرناآپ سے بہت آگے، نقشِ

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے Read More »

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گاوقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنیتو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوںمیں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا زندگی تیری عطا ہے

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا Read More »

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کاکہ اب مزاج بنا لیجیئے شکاری کا ہم احترمِ محبت میں ‌سر جکھاتے ہیںغلط نکال نہ مفہوم خاکساری کا وہ باد شاہ بنے بیٹھے ہیں مقدر سے مگرمزاج ان کا ہے اب تک وہی بھکاری کا سب اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھنے لگتے ہیںوہ ایک ڈھونگ رچاتا

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا Read More »

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھرہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہواہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریںپھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں Read More »

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتییہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لونشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں Read More »

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھتو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تورسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ Read More »

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سےسو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں Read More »

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھااپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھیپا بجولاں ہی

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے Read More »

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوایہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہوا اپنے خلاف شہر کے اندھے ہجوم میںدل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا طول شب فراق تری خیر ہو کہ دلآمادۂ وصال تجھے دیکھ کر ہوا یہ ہم ہی جانتے ہیں جدائی کے موڑ پراس دل کا جو

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا Read More »