MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گاترا ذکر میری کتاب میں نہیں آئے گا نہیں جائے گی کسی آنکھ سے کہیں روشنیکوئی خواب اس کے عذاب میں نہیں آئے گا کوئی خود کو صحرا نہیں کرے گا مری طرحکوئی خواہشوں کے سراب میں نہیں آئے گا دل بد گماں ترے موسموں کو نوید

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا Read More »

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوںتمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیںمیں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں تمہی نے میرے اجاڑ رستوں پہ خواہشوں کے دیے جلائےتمہی نے چاہا تھا خشک ہونٹوں سے

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں Read More »

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےکہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیںمگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیںکہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں سر پر مرے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے Read More »

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہےبرف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھیذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تکلڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے بات جیسی بے معنی بات اور کیا

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے Read More »

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتیخود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی جانتے ہیں کہ یقیں ٹوٹ رہا ہے دل پرپھر بھی اب ترک یہ وحشت نہیں کی جا سکتی حبس کا شہر ہے اور اس میں کسی بھی صورتسانس لینے کی سہولت نہیں دی جا سکتی روشنی کے لیے

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی Read More »

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوااس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کیوہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا Read More »

یار یہ کیا بنا ہوا ہوں میں

یار یہ کیا بنا ہوا ہوں میںاک معمہ بنا ہوا ہوں میں ہے حقیقت میں یہ تماشہِ خوابیا تماشا بنا ہوا ہوں میں کل تلک پیاس تھی مری پہچانآج دریا بنا ہوا ہوں میں پائے مالی مرا مقدر ہےآپ رستا بنا ہوا ہوں میں خود کو پہچاننے کی خواہش میںصرف چہرہ بنا ہوا ہوں میں

یار یہ کیا بنا ہوا ہوں میں Read More »

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرناجو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیںمگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لیناجو رائیگاں ہو گئیں

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا Read More »

بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا

بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہناصبا حضور سے حالِ دل و نظر کہنا! حصارِ جبر میں ہوں اور ہاں سے بھی ہجرتمَیں جانتی ہُوں کہ ممکن نہیں مگر، کہنا میں خاک شہرِ مدینہ پہن کے جب نکلوںتو مُجھ سے بڑھ کے کوئی ہو گا معتبر کہنا یہ عرض کرنا کہ آقا مِری بھی سُن

بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا Read More »

رنگ بھرتی ہوئی مے خوار کے افسانے میں

رنگ بھرتی ہوئی مے خوار کے افسانے میںکوئی تصویر نظر آتی ہے پیمانے میں ایک سورج کے تعاقب میں چلا تھا لیکنچھو لیا میں نے کسی شام کو انجانے میں رونقِ محملِ لیلیٰ ہے فقط میرا وجوداب مرے خواب بکھرتے نہیں ویرانے میں کس قدر دیدہِ خوں بار نے محنت کی ہےدل اٹھا کر تری

رنگ بھرتی ہوئی مے خوار کے افسانے میں Read More »