کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا
کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گاترا ذکر میری کتاب میں نہیں آئے گا نہیں جائے گی کسی آنکھ سے کہیں روشنیکوئی خواب اس کے عذاب میں نہیں آئے گا کوئی خود کو صحرا نہیں کرے گا مری طرحکوئی خواہشوں کے سراب میں نہیں آئے گا دل بد گماں ترے موسموں کو نوید
کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا Read More »