MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھ رنجیدگی سے بھر آئی

آنکھ رنجیدگی سے بھر آئیآج سُننے کو وہ خبر آئی اِن مسائل میں تیری یاد بھی کیاجیسے تتلی پہاڑ پر آئی اپنی ماں کی طرح اُداس اُداسبیٹی شادی کے بعد گھر آئی اب تو مَیں بھی نظر نہیں آتااے خُدا کون سی ڈگر آئی تم نے جو کُچھ کِیا شرافت میںوہ ندامت بھی میرے سر

آنکھ رنجیدگی سے بھر آئی Read More »

اچھّا تمھارے شہر کا دستوُر ہو گیا

اچھّا تمھارے شہر کا دستوُر ہو گیاجِس کو گلے لگا لِیا ، وہ دُور ہو گیا کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کےدِیوانہ بے پڑھے لِکھے مشہوُر ہو گیا محلوں میں ہم نے کتنے سِتارے سجا دیئےلیکن زمِیں سے چاند بہت دُور ہو گیا تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی انا!آئینہ بات

اچھّا تمھارے شہر کا دستوُر ہو گیا Read More »

آنسوؤں سے دُھلی خوشی کی طرح

آنسوؤں سے دُھلی خوشی کی طرحرشتے ہوتے ہیں شاعری کی طرح دُور ہوکر بھی ہُوں اُسی کی طرحچاند سے دُور چاندنی کی طرح خوبصورت، اُداس، خوفزدہوہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح جب کبھی بادلوں میں گھِرتا ہےچاند لگتا ہے آدمی کی طرح ہم خُدا بن کے آئیں گے ورنہ!ہم سے مِل جاؤ آدمی کی

آنسوؤں سے دُھلی خوشی کی طرح Read More »

جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیا

جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیااِتنا نہ کر ملال ، جو ہونا تھا، ہوگیا پروَردِگار جانتا ہے تُو دِلوں کا حالمَیں جی نہ پاؤں گا، جو اُسے کُچھ بھی ہوگیا اب اُس کو دیکھ کر، نہیں دھڑکے گا میرا دِلکہنا کہ، مجھ کو یہ بھی سبق یاد ہو گیا بادل اُٹھا تھا سب

جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیا Read More »

ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبوُ

ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبوُیاد آئی بہت، پہلی مُلاقات کی خوشبوُ چُھپ چُھپ کے نئی صُبح کا مُنہ چُوم رہی ہےاُن ریشمی زُلفوں میں بَسی، رات کی خوشبوُ موسم بھی ، حَسِینوں کی ادا سِیکھ گئے ہیںبادل ہیں چھپائے ہُوئے برسات کی خوشبوُ گھر کتنے ہی چھوٹے ہوں ، گھنے پیڑ ملیں

ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبوُ Read More »

نَظر سے گُفتگُو، خاموش لَب تمھاری طرح​

نَظر سے گُفتگُو، خاموش لَب تمھاری طرح​غزل نے سِیکھے ہیں انداز سب تمھاری طرح جو پیاس تیز ہو تو ریت بھی ہے چادرِ آب​دِکھائی دُور سے دیتے ہیں سب تمھاری طرح بُلا رہا ہے زمانہ، مگر ترستا ہُوںکوئی پُکارے مُجھے بے سَبَب تمھاری طرح ہَوا کی طرح مَیں بیتاب ہُوں، کہ شاخِ گُلاب​لہکتی ہے مِری

نَظر سے گُفتگُو، خاموش لَب تمھاری طرح​ Read More »

جگنُو کوئی سِتاروں کی محفِل میں کھو گیا

جگنُو کوئی سِتاروں کی محفِل میں کھو گیااِتنا نہ کر ملال، جو ہونا تھا ہو گیا پروردِگار! جانتا ہے تُو دِلوں کے حالمَیں جی نہ پاؤں گا، جو اُسے کُچھ بھی ہو گیا اب دیکھ کر اُسے، نہیں دھڑکے گا میرا دِلکہنا کہ، یہ سبق بھی مجھے یاد ہو گیا بادل اُٹھا تھا سب کو

جگنُو کوئی سِتاروں کی محفِل میں کھو گیا Read More »

راحت و رنج سے خالی ہے مکاں

راحت و رنج سے خالی ہے مکاںکس کے ہونے کا سوالی ہے مکاں جس کے ہونے سے یقیں تھا اس کاوہ نہیں ہے تو خیالی ہے مکاں آ کے بیٹھے ہیں پرندے شب کےشجرِ خواب کی ڈالی ہے مکاں راحت افزا ہے سکونت اس کیدل ہمارا بھی مثالی ہے مکاں خوں ٹپکتا ہے چھتوں سے

راحت و رنج سے خالی ہے مکاں Read More »

سُورج مکھی کے گالوں پہ تازہ گُلاب ہے

سُورج مکھی کے گالوں پہ تازہ گُلاب ہےیہ میرا آفتاب، مِرا ماہتاب ہے ہر تارہ، کپکپاتے ہُوئے ہونٹوں کی دُعایہ آسمان، حمد و ثنا کی کِتاب ہے بادل ہَوا کی زد پہ بَرَس کے بِکھر گئےاپنی جگہ چمکتا ہُوا آفتاب ہے چَونکے تو، یہ طلِسمِ جہاں ٹُوٹ جائے گا !عالَم تمام حلقۂ زنجیرِ خواب ہے

سُورج مکھی کے گالوں پہ تازہ گُلاب ہے Read More »

صحبتِ ثابت و سیار سے خوف آتا ہے

صحبتِ ثابت و سیار سے خوف آتا ہےاے تماشے ترے اسرار سے خوف آتا ہے راستے میں ترے اصرار پہ سایہ طلبیبیٹھ بھی جاؤں تو دیوار سے خوف آتا ہے ایک مدت سے ہوں مامور اسی حالت پرآج کیا بات ہے بیگار سے خوف آتا ہے یہ نہیں ہے کہ میں انکار نہیں کر سکتاآپ

صحبتِ ثابت و سیار سے خوف آتا ہے Read More »