آنکھ رنجیدگی سے بھر آئی
آنکھ رنجیدگی سے بھر آئیآج سُننے کو وہ خبر آئی اِن مسائل میں تیری یاد بھی کیاجیسے تتلی پہاڑ پر آئی اپنی ماں کی طرح اُداس اُداسبیٹی شادی کے بعد گھر آئی اب تو مَیں بھی نظر نہیں آتااے خُدا کون سی ڈگر آئی تم نے جو کُچھ کِیا شرافت میںوہ ندامت بھی میرے سر
آنکھ رنجیدگی سے بھر آئی Read More »